خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 588

خطبات محمود ۵۸۸ سال ۱۹۳۲ء دیکھتے ہوئے چھوڑ کر ایک پیسہ مانگنے کے لئے آگے چلا جائے۔یا اس کے راستہ میں نقصان دہ یا مضرت رساں کوئی چیز ہو لیکن وہ اس سے بچنے کی کوشش نہ کرے۔اسی طرح کئی انسان ایسے ہوتے ہیں کہ جنت یا دوزخ ان کے پاس ہی ہوتی ہے لیکن اپنی ناواقفیت کے سبب وہ اسے مرنے کے بعد ملنے والی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ اگلے جہان کی جنت اس جہان کی جنت سے مختلف نہیں۔وہاں اور یہاں کی جنت ایک ہی ہے ، صرف شکل اور صورت میں فرق ہو گا۔اس دنیا میں انسان کی جنت اس کے دل میں ہے لیکن وہاں یہی دل کی جنت متمثل ہو کر ہا ہر آجائے گی۔ادنیٰ سے ادنی مومن کے لئے یہ انعام ہے کہ اس کو ایسی جنت دی جائے گی جو زمین و آسمان کے برابر ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو اتنی جنت مل جائے گی تو باقی لوگ کہاں جائیں گے۔آنحضرت میں ہم نے بھی فرمایا ہے کہ ادنیٰ سے ادنی مؤمن کی یہ جزاء ہے کہ اسے زمین و آسمان سے بھی زیادہ وسعت رکھنے والی جنت ملے گی۔قرآن مجید میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ غرض ایسی جنت جس کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہو۔پھر اس کے ساتھ ایسی تقسیم ہو جو ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ ملے وہ یقیناً ایک قابل اعتراض چیز ہے۔لیکن جنت کے متعلق حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے احساسات کے مطابق بدلہ مل جائے گا۔جنت ایک ہی ہو گی سب اسی میں ہوں گے لیکن ہر شخص یہی سمجھ رہا ہو گا کہ یہ میری ہی ہے اور میں ہی اکیلا اس کا مالک ہوں کیونکہ جنت میں اگر روئی کی صورت ہو تو پھر خواہش باقی رہتی ہے اور ہر شخص یہ خیال کر کے کہ دوسرے کی جنت ممکن ہے میری جنت سے اعلیٰ ہو ، یہ آرزو اور تمنا کرنے لگ جائے کہ یہ مجھے مل جائے اور اگر یہ خواہش پیدا ہو جائے تو پھر تقسیم کیو نکر ہوگی۔غرض جنت ایک ایسا مقام ہے جس کے متعلق ہر شخص یہ سمجھ رہا ہو گا کہ یہ میرا ہی ہے۔وہ مقام زید کا بھی ہو گا اور زید سمجھ رہا ہو گا کہ یہ صرف میرا ہی ہے۔وہ عمرد کا بھی ہو گا اور عمرد سمجھ رہا ہو گا اس کا صرف میں ہی مالک ہوں۔وہی مقام خالد کا بھی ہو گا اور وہ خیال کرے گا کہ اس پر صرف میرا ہی قبضہ ہے۔مگر حقیقت یہ ہوگی کہ سب کے سب ایک ہی جنت کے متعلق کہہ رہے ہوں گے۔ہاں ہر شخص اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق نفع حاصل کرتا رہے گا۔میں بتلا چکا ہوں کہ جنت اس دنیا میں بھی ہے اور دوسری دنیا میں بھی۔لیکن اگلی دنیا میں صرف انہی لوگوں کو ملے گی جو اسے اس دنیا میں حاصل کر چکے ہوں گے۔مگر کئی انسان ہیں جو اسے مرنے