خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 541

خطبات محمود ۵۴۱ سال ۱۹۳۲ء کہا یا رسول اللہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا خدا نے آپ کو کہا ہے کہ پانچ وقت کی نماز پڑھنی چاہئے ۔ آپ نے فرمایا ہاں اس نے پھر کہا میں آپ کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو خدا نے کہا ہے کہ ہر مستطیع پر عمر بھر میں ایک دفعہ حج فرض ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اسی طرح اس نے روزوں کے متعلق پوچھا۔ زکوۃ کے متعلق دریافت کیا۔ پھر اٹھا اور کہنے لگا میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں میں ان احکام پر ضرور عمل کروں گا۔ مگر ان سے زیادہ نہیں کروں گا۔ رسول کریم نے یہ سن کر فرمایا اگر اس نے سچ بولا ہے تو یہ نجات پا گیا ہے ۔ یعنی جو کچھ اس نے کہا ہے اگر اس پر عمل کیا تو نجات حاصل کرلے گا۔ پس اس میں شبہ نہیں کہ فرائض کی ادائیگی انسان کو نجات دلا سکتی ہے۔ اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ مجمل ایمان بھی ایک حد تک نجات دلا سکتا ہے۔ جب بچے دل سے ایک انسان یہ سمجھتا ہو کہ وہ قرآن کریم کو مانتا ہے اور پھر بچے دل سے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہو تو گو اس سے معمولی غلطیاں بھی سرزد ہوں، اللہ تعالیٰ کا فضل اسے ڈھانپ لیتا اور اسے نجات کا وارث بنا دیتا ہے لیکن نجات انسان کا اصل مقصود نہیں۔ نجات کے معنی ہیں عذابوں، تکلیفوں اور دکھوں سے محفوظ ہو جانا۔ میں اس وقت نجات سے مراد عام اصطلاح لے رہا ہوں۔ میرا منشاء اس نجات سے نہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہے۔ وہ بالکل اور نجات ہے اور یہ بالکل اور قسم کی۔ تو نجات کے عام معنے لغت کے لحاظ سے یا عام محاورہ کے لحاظ سے عذابوں اور دکھوں سے بچ جانے کے ہیں۔ اب کون شخص اس امر کو تسلیم کر سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے مخلوق کو اس لئے پیدا کیا ہے تا وہ عذابوں سے بچ جائے۔ یہ تو اس صورت میں بھی مقصد حاصل تھا جب وہ کسی کو پیدا ہی نہ کرتا۔ اس صورت میں سارے انسان عذابوں سے محفوظ تھے۔ انسان کو پیدا کر کے یہ کہنا کہ یہ اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تا عذابوں سے محفوظ ہو جائے بالکل بے معنی بات ہے۔ پس نجات انسان کا مقصود نہیں۔ اگر انسان نہ بھی پیدا ہوتا تو بھی وہ جہنم سے بچا تا۔ لیکن اللہ تعالی کا دنیا کو پیدا کرنا بتاتا ہے کہ اس سے مرا سے مراد کوئی ایسا مقصد - امقصد ہے جو پیدا کرنے کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ پس نجات انسان کا مقصد نہیں بلکہ انسانی پیدائش کا مقصد قرب الہی ہے۔ اگر انسان نے قرب الہی حاصل کر لیا تو اس نے اپنے منتہائے زندگی کو حاصل کر لیا۔ کیونکہ مقصد ہمیشہ وہ ہوا کرتا ہے جو پہلے انسان کو حاصل نہ ہو۔ اگر انسانی پیدائش کا مقصد صرف نجات ہے تو دکھوں اور عذابوں سے بچ جانا کونسی نئی بات ہے جو بغیر پیدا ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔ اگر انسان پیدا نہ ہو تا تو بھی وہ مال کے نقصان سے بچا ہوا ہو تا تجارت کے نقصان سے محفوظ ہوا ہوتا۔