خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 538

خطبات محمود ۵۳۸ سال ۱۹۳۲ء میں نہیں آتی۔بلکہ وہ صرف صلوۃ ہے۔اصل نماز اقامت والی ہی ہے۔پس مؤمن کو ہمیشہ اذان کی تحریک سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں بوجہ بعض جگہ مسجدوں کی کمی کے یا احمدیوں کی تعداد کی قلت کے دوستوں کو علیحدہ علیحدہ گھروں میں نماز پڑھنی پڑتی ہے۔لیکن اس طریق کے نتیجہ میں نوجوانوں میں سے ایک طبقہ علیحدہ نماز پڑھنے کا عادی ہو گیا ہے۔ہمارے سلسلہ کے بعض کارکن بھی جب باہر سفر میں جاتے ہیں تو کبھی نماز با جماعت نہیں پڑھتے۔جس کا دوسروں پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ جب مرکز کے لوگ نماز با جماعت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تو ہمارا کیا ہے۔غرض ان کو اس وجہ سے ٹھو کر لگ جانے کا موقع ہو تا ہے۔حالانکہ آنحضرت میمی نے فرمایا ہے کہ اگر دو مسلمان بھی کہیں ہوں تو اذان دے کر باجماعت نماز پڑھیں وہ کیونکہ اگر ہم باجماعت نماز نہ پڑھیں گے تو گویا ہم اپنے دلوں میں خود تفرقہ ڈال رہے ہیں۔اور جب اپنے متعلق ہمارا اپنا یہ طریق ہو گا تو خدا تعالیٰ کیوں ہمارے دلوں کو ملائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو نماز اتنی پیاری تھی کہ جب کبھی بیماری وغیرہ کی وجہ سے آپ باہر تشریف نہ لا سکتے اور گھر میں ہی نماز ادا کرنی پڑتی تھی تو والدہ صاحبہ یا گھر کے بچوں کو ساتھ ملا کر نماز با جماعت پڑھا کرتے۔خیر یہ تو ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔اگر ہم اتنا نہ کر سکیں تو کم از کم تندرستی کی حالت میں تو نماز با جماعت کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے۔نماز کی ادائیگی ایک ایسی چیز ہے جو نظر آجاتی ہے۔دل کا حال تو خدا ہی جانتا ہے لیکن نظر آنے والے افعال میں کو تاہی لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے نماز باجماعت ادا کرنے میں ہمیشہ التزام چاہئے۔بے شک بعض اوقات نماز ہمیں بھی جمع کرنی پڑتی ہے۔اگر چہ نماز کے جمع کرنے میں ہمارا اور غیروں کا اختلاف ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ نماز صرف اول وقت میں ہی جمع ہو سکتی ہے۔لیکن ہمارے نزدیک دوسرے وقت میں بھی جمع کرنا جائز ہے۔لیکن اختلاف کو چھوڑ کر جب کبھی نماز جمع کرنی پڑے تو با جماعت ہی ادا کرنی چاہئے۔لوگ کہتے ہیں اذان کا کیا فائدہ ہے۔حالانکہ اگر اس کی کوئی حقیقت نہ ہوتی تو حَى عَلَى الْفَلَاح کیوں کہا جاتا۔پھر تو یہی کہنا چاہئے تھا کہ گھر میں ہی فلاح ہے اٹھو اور حاصل کر لو۔لیکن کہا یہ گیا ہے کہ فلاح جماعت میں ہے۔یعنی اگر باجماعت نماز پڑھو تو کامیابی ہوگی۔بغیر اس کے کامیابی حاصل نہ ہوگی۔غرض نماز کو انتظام کے ماتحت یعنی باجماعت ادا کرنا چاہئے۔