خطبات محمود (جلد 13) — Page 504
خطبات محمود ۵۰۴ سال ۱۹۳۲ء غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی ساری عمرا من شکن تحریکات کے سدباب کی کوشش فرماتے رہے اور ہمیشہ ملکی امن کو ضروری قرار دیتے رہے۔میں نے بھی دوستوں کو ہمیشہ کانگرس کی تحریکات کے متعلق یا جو بھی فساد کی تحریکیں ہوں یہ نصیحت کی ہے کہ ان سے بچیں اور نہ صرف ہمارے دوستوں کو ان تحریکات میں مبتلاء ہونے سے بچنا چاہئے بلکہ ان کا پورے استقلال کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دوستوں میں یہ نقص ہے کہ وہ بات کو جلدی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ابھی مجھے یہ مضمون سمجھانے کے لئے اتنی لمبی تمہید بیان کرنی پڑی ہے۔جو میرے اصل مضمون سے بھی زیادہ ہوگی اور میں دیکھتا ہوں کہ ابھی ہمارے دوستوں کو اس امر سے واقفیت نہیں کہ دین و دنیا کا میدان مخلوط ہے۔ایک ہی وقت میں ایک چیز جو ساری کی ساری دنیا ہوتی ہے دوسرے وقت میں ساری کی ساری دین ہو جاتی ہے۔مگر پھر بھی کئی دوست ایسے ہیں جو اس لئے ان امور میں دلچسپی نہیں لیتے کہ وہ خیال کرتے ہیں یہ دنیوی کام ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔وہ اپنے آپ کو اور لوگوں سے کچھ کچھ بالا سمجھتے ہیں۔ان کی مثال بالکل اُن نمبرداروں کی سی ہوتی ہے جن کا ذکر حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے۔مجھے کا یہ لطیفہ ہمیشہ یاد آتا ہے۔آپ جب کبھی زیادہ بیمار ہوتے تو فرماتے دوست تشریف لے جائیں۔اس پر ایک تہائی لوگ چلے جاتے اور باقی بیٹھے رہتے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر فرماتے دوست تشریف لے جائیں اس پر ایک تہائی اور چلے جاتے۔جب آپ دیکھتے اب بھی بعض لوگ بیٹھے ہیں تو پھر آپ فرماتے اب نمبردار بھی چلے جائیں۔مطلب یہ کہ ایسے لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ہم مخاطب نہیں وہ گویا اپنے آپ کو نمبردار قرار دیتے ہیں۔مجھے اس نظارہ کے دیکھنے کا اس طرح موقع مل جاتا کہ جب آپ فرماتے دوست اٹھ کر چلے جائیں اور میں بھی اٹھتا تو آپ فرماتے آپ بیٹھے رہیں میرا مطلب آپ سے نہیں۔اس لئے مجھے کئی دفعہ آپ سے یہ فقرہ سننے کا موقع مل گیا۔تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ہر خطبہ ہر لیکچر اور ہر وعظ کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ ہم نمبرداروں کے لئے نہیں۔حالانکہ خطبہ سب کے لئے ہوتا ہے۔پس ہر ایک کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میں ہی اس کا اصل مخاطب ہوں۔میں دیکھتا ہوں ہمارے ملک کا امن ایک لمبے عرصہ سے اس طرح برباد ہو رہا ہے کہ میں جب بھی اس پر غور کرتا ہوں مجھے اپنے ملک کا نہایت ہی تاریک مستقبل نظر آتا ہے۔ایک طرف میں کانگرس کو دیکھتا ہوں کہ اس کے اصول اتنے خطرناک اور فساد پیدا کرنے والے ہیں کہ اگر ہم انہیں مان لیں تو بجائے دنیا میں امن قائم ہونے کے فتنہ و فساد پھیل جائے۔