خطبات محمود (جلد 13) — Page 481
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء اور ہتھیار بنایا ہوا تھا وہ مجھے بات بتا دیتے اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہنچا دیتا۔آخر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی عطا کی۔اور باوجود یکہ بعض جلد باز دوستوں نے قریباً ہم پر کفر کا فتویٰ لگا دیا اور کہا کہ یہ دنیا دار لوگ ہیں کیونکہ انگریزی تعلیم کی تائید کرتے ہیں۔پھر بھی فیصلہ ہمارے حق میں ہوا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ جو لوگ اس سکول کو توڑنا چاہتے تھے انہوں نے مدرسہ احمدیہ کو توڑنے کا فیصلہ کیا اس وقت بھی خدا نے مجھے ہی توفیق دی اور شاید میں ہی اکیلا شخص تھا جس نے پوری سختی کے ساتھ اس فیصلہ کی مخالفت کی۔اُس وقت میری عمر بیس سال کے قریب تھی۔اور جس قدر لوگ موجود تھے انہوں نے متفقہ طور پر اس فیصلہ کا اظہار کر دیا تھا کہ مدرسہ احمدیہ کو توڑ دیا جائے اور اس کے بجائے لڑکوں کو وظائف دے کر اعلیٰ درجہ کی انگریزی تعلیم حاصل کرائی جائے اور بی۔اے ایم۔اے پاس کرنے کے بعد ایک دو سال دینی تعلیم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب یہاں پڑھا کر ان سے تبلیغ کا کام لیا جائے۔میں نے اس فیصلہ کی شدت سے مخالفت کی۔اور اللہ تعالی نے میری زبان میں ایسی تاثیر بخشی کہ جو لوگ ایک منٹ پہلے اسے مخالفت کی۔اور تھے میری تقریر سن کر کہہ اٹھے کہ اسے نہیں تو ڑنا چاہئے۔خود خواجہ صاحب ! توڑنے کے حق جن کی کوشش تھی کہ اسے توڑا جائے کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے دراصل ہمار انشاء بھی یہ نہیں کہ اسے تو ڑ دیا جائے چونکہ وہ شکست سے بچنا چاہتے تھے اس لئے کہنے لگے کہ اچھا اس مسئلہ پر دوبارہ غور کیا جائے گا کیونکہ اگر اس وقت رائے لی جاتی تو یقینا نوے فیصدی میرے حق میں رائے دیتے۔پس انہوں نے مناسب سمجھا کہ شکست کھانے کے بجائے اس سوال کو ہی چھوڑ دیا جائے۔چنانچہ انہوں نے کہہ دیا کہ اس پر دوبارہ غور کیا جائے گا جو آج تک کبھی نہیں ہوا اور مدرسہ احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قائم ہے تو اس طرح ان دونوں سکولوں کے قیام میں میرا حصہ ہے اور مجھے ان سے ذاتی اُنس اور لگاؤ ہے۔علاوہ اس کے کہ جو مجھے اپنے منصب کے لحاظ سے ہونا چاہئے میں ابھی جماعت کی کمزوری پر زیادہ کلام نہیں کرتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں ابھی جماعت میں وہ بلو صفت نہیں آئی جبکہ عقل پختہ ہوتی ہے۔ابھی یہ حالت ہے کہ اگر کوئی عیب بیان کیا جائے تو قطع نظر اس سے کہ وہ کہاں تک ہے اور کس حد تک ہے لوگ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ جس میں یہ عیب پایا جاتا ہے اس سے زیادہ ذلیل چیز اور کوئی نہیں اور اسے جس قدر جلد ممکن ہو مٹا دینا چاہئے اور اگر کوئی خوبی بیان کی جائے تو بجائے اس کے کہ غور کریں کہ وہ خوبی کتنی اہمیت رکھتی ہے کہنے لگ جائیں گے کہ اس سے زیادہ مفید اور اچھی چیز کوئی نہیں۔اس