خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 467

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ تکلیف تھی۔ وہ بار بار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کے بیٹے نے ان سے کہا آپ گھبراتے کیوں ہیں۔ آپ نے تو اسلام کی بہت بڑی خدمات سرانجام دی ہیں ۔ پھر مرے ں۔ پھر مرنے کا کیا خوف ہے۔ انہوں نے کہا اے میرے بیٹے ! اگر رسول کریم میں کی زندگی ہی میں میری وفات ہو جاتی تو مجھے گھبراہٹ نہ ہوتی۔ آپ کے وصال کے بعد نہ معلوم فتنہ و فساد کے زمانہ میں ہم نے کیا کیا حرکتیں سرزد ہوئیں۔ اور نہ معلوم وہ خدا کو کس قدر پسند آئیں اور چونکہ اس موقع پر رسول کریم میں کا ذکر آگیا تھا۔ جس پر صحابہ بے تاب ہو جایا کرتے تھے اس لئے باوجود شدت کرب اور نزع کی تکلیف کے وہ بے قرار ہو گئے ۔ اور انہوں نے کہا اے میرے بیٹے! ایک زمانہ تھا کہ مجھے رسول کریم میم سے زیادہ ناپسند وجود دنیا میں کوئی اور معلوم نہ ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نفرت و حقارت کی وجہ سے میں نے اس وقت آنکھ اٹھا کر آپ کی شکل دیکھنا پسند نہ کیا۔ میں دنیا میں سے بد ترین جگہ وہ سمجھتا تھا جہاں رسول کریم میں موجود ہوتے۔ اور اس نفرت میں میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ ایک چھت کے نیچے کبھی میں رسول کریم میں کے ساتھ کھڑا ہونا پسند نہیں کرتا تھا۔ میری جتنی طاقتیں تھیں وہ میں آپ کے خلاف صرف کرتا اور ہر ہر ممکن طریق سے آپ کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتا۔ پھر ایک دن وہ آیا جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو کھول دیا۔ صداقت مجھ پر ظاہر ہو گئی۔ اور مجھے معلوم ہو گیا کہ میں غلطی پر تھا۔ تب میں نے رسول کریم م کو قبول کیا۔ مگر اے میرے بیٹے ! پھر مجھے رسول کریم میم سے اس قدر عشق ہو گیا اور اتنی گہری محبت میرے دل میں آپ کے لئے پیدا ہو گئی کہ میں اس محبت کی وجہ سے آپ کی طرف نہ دیکھ سکا۔ گویا ایک وقت تو نفرت کی وجہ سے میں رسول کریم میں ہم کو نہیں دیکھ سکا اور دوسرے وقت رعب حسن کی وجہ سے نہیں دیکھ سکا۔ پھر اے میرے بیٹے ! میری یہ حالت ہو گئی کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیاری جگہ مجھے وہ معلوم ہوتی جہاں رسول کریم مسلم موجود ہوتے۔ چونکہ میں دونوں حالتوں میں آپ کو نہیں دیکھ سکا اس لئے آج اگر مجھ سے کوئی شخص رسول کریم کا حلیہ پوچھے تو میں نہیں بتا سکتا۔ کیونکہ پہلے بغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہ دیکھی اور پھر محبت کی وجہ سے آپ کی شکل نہ دیکھ سکا ۔ یہ تبدیلی جو حضرت عمرو بن العاص کے دل میں پیدا ہوئی اور جسے وہ خود بیان کرتے ہیں تم دیکھ سکتے ہو کتنی زبر دست تبدیلی ہے۔ ایک وقت تو اتنا بعض کہ آپ کو اس بغض کی وجہ سے نہ دیکھ سکے۔ اور پھر اتنی محبت کہ اس محبت کی وجہ وقت آپ کو نہ دیکھ سکے ۔ مگر یہ کس چیز نے تبدیلی پیدا کی ۔ محض اللہ تعالیٰ کے فضل نے نہ کہ انسانی مل اور سے آر پ