خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 461

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء لئے اپنے بچوں کو اپنے پاس سے اس لئے جدا کر دیتی ہیں کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔ پس وہ ماں باپ جو اپنی اولاد کے ایسے دشمن ہیں کہ کہتے ہیں۔ بچو! چھٹیوں میں ہمارے پاس آؤ ۔ ہم تمھیں کھلائیں گے تمہیں محنت کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور وہ استاد جو لڑکوں کی تعلیم کی نگرانی نہیں کرتے۔ میں نہیں سمجھ سکتا وہ کسی طرح لا اله الا اللہ کہنے والے ہو سکتے ہیں۔ لا اله الا اللہ کہنے کی تو ایک ہی غرض ہے اور وہ یہ کہ تمہارا یہ مقصد ہو کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی حکومت کو قائم کرو لیکن وہ لوگ جو سستی اور غفلت کو دنیا میں قائم کرنا چاہے۔ وہ تو شیطان کی حکومت کو قائم کرنا چاہتے ہیں نہ کہ اللہ تعالی کی حکومت کو ۔ میں اس نقطہ نگاہ سے اپنے سکول کے نتائج کو نہیں دیکھتا کہ ان میں سے کتنے لڑکے کامیاب ہوئے اور کتنے فیل بلکہ میں اس نقطہ نگاہ کے ماتحت دیکھتا ہوں کہ ہم خدا تعالیٰ کی جماعت کہلاتے ہیں اور ہماری ذلت اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ میں انٹرنس کو انٹرنس کی حیثیت میں ایف اے کو ایف اے کی حیثیت میں بی اے کو بی اے کی حیثیت میں اور مولوی فاضل کو مولوی فاضل کی حیثیت میں نہیں دیکھتا بلکہ میں اسے اللہ تعالٰی سے وابستگی کے لحاظ سے دیکھتا ہوں اور میں اس لحاظ سے دیکھتا ہوں کہ ان نتائج سے سلسلہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ میں صرف انٹرنس میں لڑکوں کے فیل ہونے کو ہی ناپسند نہیں کرتا بلکہ میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا کہ ہمارے بچے کسی کھیل میں ہار جائیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں جب کوئی قوم اپنے آپ کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتی ہے تو اس کے افراد اور دوسری جماعتوں کے افراد میں بہت نمایاں فرق ہوتا ہے۔ بہت نمایاں فرق ہوتا ہے۔ بہت نمایاں فرق ہوتا ہے۔ کبھی کوئی شخص اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ ایک تار کا بجلی کے ساتھ تعلق ہو اور پھر بھی اس میں کوئی اثر نہ ہو۔ اگر کسی تار میں واقعہ میں بجلی کا کوئی اثر نہیں تو دو باتوں میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے یا تو اس کا تعلق کبھی ہوا ہی نہیں اور اگر کبھی ہوا تھا تو اب منقطع ہو چکا ہے۔ بعینہ اسی طرح بلکہ اس سے بھی بہت بڑھ کر اللہ تعالی کے تعلق کا اثر ہونا چاہئے۔ اور اگر ایسا اثر دکھائی نہیں دیتا تو اس کا صاف طور پر یہ مطلب ہے کہ : ہے کہ ہمارا اللہ تعالٰی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ محض زبانی دعوی ہے۔ پس میں اپنے دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے ان کی ناکامیاں بہت بری لگتی ہیں۔ دوستوں کی ناکامیوں کا تو کیا ذکر میں تو دشمن کی ناکامی کو بھی نا پسند کرتا ہوں۔ پس جب میں دشمن کی ناکامی کو بھی پسند نہیں کرتا تو اپنے دوستوں کی ناکامی کو کس طرح برداشت کر سکتا ہوں۔ اس وجہ سے میری