خطبات محمود (جلد 13) — Page 462
خطبات محمود دو ۶۳ سوم سال ۱۹۳۲ء ناراضگی ہوتی ہے۔ورنہ میری ناراضگی کسی کی ذات سے نہیں ہوتی۔پس اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ ل ALTA ATLANTA اللہ ذرا غور سے پڑھا کریں۔اس میں ان کے سامنے ایک مقصد رکھا گیا ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں عزت حاصل ہوگی اور اگر نہیں کریں گے تو اپنی عزت کو ضائع کرنے والے ہوں گے۔کئی ہیں جو نادانی سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ فلاں شخص یوں کرتا ہے ہم بھی اسی طرح کریں تو کیا حرج ہے۔حالانکہ اگر کوئی شخص ناپسندیدہ طریق اختیار کرتا ہے تو تمہیں اس سے کیا۔تمہیں اپنے کام سے کام ہونا چاہئے۔اگر تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور جنت کا دروازہ کھلا ہے تو کیا تم اس لئے اسے اپنے اوپر بند کر لو گے کہ فلاں شخص دوزخ کی طرف جا رہا ہے، میں کیوں جنت کی طرف جاؤں۔پس تم کیوں دوسروں کے کاموں کی طرف دیکھتے ہو۔تم لا اله الا الله کو اپنے سامنے رکھو اور اس میں جو مقصد بتایا گیا ہے، اسے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔میں نے کئی لوگوں کو کہتے سنا ہے جب یہ کہا جائے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو تو وہ کہہ دیا کرتے ہیں سارے ایسا کرتے ہیں۔میری سمجھ میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ ساروں کے کرنے سے ایک کام تمہارے لئے کیونکر جائز ہو سکتا ہے۔تمہار ا براہ راست خدا تعالیٰ سے تعلق ہے۔فرض کرو ساری دنیا میں کوئی روحانیت باقی نہیں رہتی اور نہ دیانت وامانت پائی جاتی ہے تو کیا اس سے یہ جائز ہو گا کہ تم بھی دیانت و امانت کو جواب دے دو۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ ریل میں سفر کر رہا تھا کہ ایک ریل کے ملازم سے جو بہت بوڑھا تھا کسی نئے ملازم نے پوچھا کہ تمہاے زمانہ میں کیا کچھ ہو تا تھا۔وہ کہنے لگا آج کل تو اس محکمہ میں نہایت کمینے اور ذلیل لوگ آگئے ہیں۔ہمارے زمانے میں بہت شریف لوگ ہوتے تھے۔مجھے اس کی اس بات سے نہایت خوشی ہوئی۔اور مجھے شوق ہوا کہ میں اس کی تفصیل سنوں۔مگر میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب اگلے فقروں میں اس نے کہا کہ آج کل ایسے کمینے لوگ آگئے ہیں کہ اگر پیسے کا بھی نقصان ہو جائے تو فور اشور مچا دیتے ہیں کہ نین ہو گیا۔حالانکہ ہمارے زمانہ میں گنگا بہہ رہی تھی۔اگر ہزاروں کا مال بھی نکال لیا جاتا تو کوئی نہ پوچھتا۔لاکھوں روپیہ کا مال روزانہ سٹیشنوں پر سے گزرتا۔اس میں سے اگر کچھ لے لیا تو کیا حرج ہو گیا۔مگر اب ایسے شریف لوگ کہاں۔اب تو سب بد معاش آگئے ہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ تمہارے نزدیک بھی نیکی اور بدی کا معیار یہی رہ گیا ہے۔اور کیا تم بھی اس قسم کی فضاء کو پسند کرتے ہو۔تمہیں تو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اگر ساری دنیا بھی بدی کرے تب بھی تم نیکیوں پر قائم رہو تم سے دوسروں کے متعلق سوال