خطبات محمود (جلد 13) — Page 441
خطبات محمود اسلام مهم سال ۱۹۳۳ء ساتھ رعائت کر ہم تیر الحاظ کریں گے اور یہ گستاخی والی روح ہے اس لئے اسلام نے ایسا کہنے سے روک دیا۔اور فرمایا کہ اگر ایسا کہو گے تو تمہارے ایمان ضائع ہو جائیں گے۔باقی رہے دشمن وہ تو جان بوجھ کر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ تا مسلمان بھی ان الفاظ کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے محروم ہو جائیں۔اسی طرح رسول کریم میں نے حدیث میں فرمایا ہے نمازوں میں اپنی صفوں کو درست کرو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے۔بظاہر یہ نہایت چھوٹی سی بات دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظاہر کا انسان کے باطن پر اثر پڑتا ہے۔جب صفوں میں ایک مومن اپنے بھائیوں کے دوش بدوش اور پہلو بہ پہلو کھڑا ہو گا تو ہمیشہ اس کے دل میں یہ خیال آتا رہے گا کہ روحانی طور پر بھی اسے اپنے تعلقات اخوت کو مضبوط رکھنا چاہئے اور اپنے بھائیوں سے لڑنا نہیں چاہئے۔جو شخص پانچ وقت کی نمازوں میں اپنے بھائی سے ایک ذرہ آگے پیچھے نہیں ہو گاوہ اور معاملات میں اختلاف کب گوارا رکھ سکتا ہے۔پس صفوں کی درستی کے نتیجہ میں اس کے قلب میں ایسی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔جو قومی اتحاد کے لئے بمنزلہ روح کے ہوگی۔اسی طرح اور بہت سی باتیں ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں لیکن نتائج کے لحاظ سے نہایت اہم ہوتی ہے۔امام ابو حنیفہ سے ایک دفعہ کسی شخص نے پوچھا کہ امام صاحب کبھی آپ کو بھی کوئی نصیحت کرنے والا ملا۔آپ نے فرمایا کسی بڑے آدمی سے مجھے وہ فائدہ نہیں ہوا جو ایک بچے کی نصیحت سے ایک دفعہ ہوا۔پھر انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی۔میں گھر سے نکلا۔دیکھا کہ ایک لڑکا گلی میں دوڑتا چلا جا رہا ہے۔چونکہ اس وقت بارش ہو رہی تھی اور جگہ پھسلنی تھی۔میں نے کہا بچے اذرا سنبھل کر چلو۔ایسا نہ ہو تمہارے پاؤں پھسل جائیں۔وہ لڑکا میری طرف دیکھ کر مسکرایا۔اور کہنے لگا امام صاحب آپ سنبھل کر چلتے۔میں اگر گر ا تو اکیلا ہی کروں گا لیکن اگر آپ گرے تو ساری دنیا تباہ ہو جائے گی۔اس لڑکے کی اس بات کا آج تک مجھ پر اثر چلا آتا ہے غرض بہت سے باتیں بظا ہر چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن ان کے نتائج نہایت اہم پیدا ہوتے ہیں۔پس اول تو کسی مسئلہ کو اس لئے چھوٹا قرار دینا کہ روپوں اور اشرفیوں میں اس کی قیمت نظر نہیں آتی غلط طریق ہے۔دوسرا امریہ ہے کہ وہ مسئلہ جسے ہم اصولی یا فروعی کہیں اس کے متعلق ہمیں غور کرنا چاہیئے کہ آیا وہ حکم خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔اگر وہ خدا کی طرف سے ہو تو چاہے ترتیب یا ترکیب میں وہ فروعی کہلائے ایمان کے لحاظ سے فروعی نہیں کہلا سکتا۔مثلاً ایک