خطبات محمود (جلد 13) — Page 441
خطبات محمود ۱ سال ۱۹۳۲ء ساتھ رعائت کر ہم تیر الحاظ کریں گے اور یہ گستاخی والی روح ہے اس لئے اسلام نے ایسا کہنے سے روک دیا۔ اور فرمایا کہ اگر ایسا کہو گے تو تمہارے ایمان ضائع ہو جائیں گے ۔ باقی رہے دشمن وہ تو جان بوجھ کر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ تا مسلمان بھی ان الفاظ کو استعمال کر کے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے محروم ہو جائیں۔ اسی طرح رسول کریم مسلم نے حدیث حدیث میں فرمایا ہے نمازوں میں اپنی صفوں کو درست کرو ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہو جائیں گے ۔ بظاہر یہ نہایت چھوٹی سی بات دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ظاہر کا انسان کے باطن پر اثر پڑتا ہے۔ جب صفوں میں ایک مومن اپنے بھائیوں کے دوش بدوش اور پہلو بہ پہلو کھڑا ہو گا تو ہمیشہ اس کے دل میں یہ خیال آتا رہے گا کہ روحانی طور پر بھی اسے اپنے تعلقات اخوت کو مضبوط رکھنا چاہئے اور اپنے بھائیوں سے لڑنا نہیں چاہئے ۔ جو شخص پانچ وقت کی نمازوں میں اپنے بھائی سے ایک ذرہ آگے پیچھے نہیں ہو گا وہ اور معاملات میں اختلاف کب گوارا رکھ سکتا ہے۔ پس صفوں کی درستی کے نتیجہ میں اس کے قلب میں ایسی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔ جو قومی اتحاد کے لئے بمنزلہ روح کے ہوگی۔ اسی طرح اور بہت سی باتیں ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں لیکن نتائج کے لحاظ سے نہایت اہم ہوتی ہے ۔ امام ابو حنیفہ سے ایک دفعہ کسی شخص نے پوچھا کہ امام صاحب کبھی آپ کا امام صاحب کبھی آپ کو بھی کوئی نصیحت کرنے والا ملا ۔ آپ نے فرمایا کسی بڑے آدمی سے مجھے وہ فائدہ نہیں ہوا جو ایک بچے کی نصیحت سے ایک دفعہ ہوا۔ پھر انہوں نے واقعہ سنایا کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی۔ میں گھر سے نکلا۔ دیکھا کہ ایک لڑکا گلی میں دوڑتا چلا جا رہا ہے۔ چونکہ اس وقت بارش ہو رہی تھی اور جگہ پھیلتی تھی۔ میں نے کہا بچے ذرا سنبھل کر چلو ۔ ایسا نہ ہو تمہارے پاؤں پھیل جائیں۔ وہ لڑکا میری طرف دیکھ کر مسکرایا۔ اور کہنے لگا امام صاحب آپ سنبھل کر چلتے ۔ میں اگر گر ا تو اکیلا ہی کروں گا لیکن اگر آپ گرے تو ساری دنیا تباہ ہو جائے گی۔ اس لڑکے کی اس بات کا آج تک مجھ پر اثر چلا آتا ہے غرض بہت سے باتیں بظاہر چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن ان کے نتائج نہایت اہم پیدا ہوتے ہیں۔ پس اول تو کسی مسئلہ کو اس لئے چھوٹا قرار دینا کہ روپوں اور اشرفیوں میں اس کی قیمت نظر نہیں آتی غلط طریق ہے۔ دوسرا امر یہ ہے کہ وہ مسئلہ جسے ہم اصولی یا فروعی کہیں اس کے متعلق ہمیں غور کرنا چاہئے کہ آیا وہ حکم خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔ اگر وہ خدا کی طرف سے ہو تو چاہے ترتیب یا ترکیب میں وہ فروعی کہلائے ، ایمان کے لحاظ سے فروعی نہیں کہلا سکتا۔ مثلاً ایک