خطبات محمود (جلد 13) — Page 38
خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۳۱ء بوڑھے ہو گئے اور کئی ۶۰ ۷۰ سال کی عمر میں بھی یہ کہتے ہیں ابھی ہماری عمر ہی کیا ہے۔ ابھی ہم کون سے ن سے بوڑھے ہو گئے ہیں۔ یعنی کئی تو کئی تو اتنی بڑی عمر تک پہنچ کر بھی اپنے آپ کو بوٹ آپ کو بوڑھا نہیں سمجھتے اور کئی چھوٹی عمر میں ہی بوڑھا خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔ خصوصاً عورتوں میں تو یہ عام مرض ہے کہ تیس برس کے قریب پہنچ کر ہی وہ اس طرح ذکر کرنے لگ جاتی ہیں گویا دو سو سال کی بوڑھی ہیں۔ جب کوئی بات ہو کہیں گی اب ہماری کوئی عمر ہے ۔ وہ دن گئے جب ہماری عمر تھی۔ حالانکہ ہندوستانی عورتوں پر تو وہ دن کبھی آتے ہی نہیں۔ وہ چونکہ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ ورزش یا سیر وغیرہ نہیں کرتیں۔ اس لئے ان پر وہ دن کبھی آتے ہی نہیں جب وہ اپنے آپ کو جوان کہہ سکیں۔ یا تو ان پر یا تو ان پر وہ دن ہوتے ہیں جب وہ کہتی ہیں ابھی ہم جو ان نہیں ہوئیں۔ یا پھر فوراہی بڑھاپا شروع ہو جاتا ہے۔ تو بعض لوگ ۴۰٬۳۵ سال کی عمر میں اپنے آپ کو بوڑھا سمجھنے لگ جاتے ہیں اور ں اور بعض کہتے ہیں روزہ رکھنے سے ضعف ہو جاتا ہے۔ میں نے اس پر ایک بار خطبہ بھی پڑھا تھا کہ ضعف کوئی بیماری نہیں روزہ تو ہے ہی اس لئے کہ ضعف ہو۔ یہ تو بتاتا ہے کہ پیٹ بھر کر کھانے والے ان غریبوں کی حالت کا اندازہ کریں جن کی قریباً ہر وقت ایسی حالت رہتی ہے۔ اگر تو شریعت کہتی کہ روزہ کا منشاء یہ کہ انسان موٹا تازہ اور طاقتور ہو جائے۔ تو بے شک کہا جاسکتا تھا کہ ہمیں چونکہ روزے سے ضعف ہو جاتا ہے اس لئے روزہ نہیں رکھ سکتے۔ مگر جب اس سے غرض ہی یہ ہے کہ جفاکشی اور ہمدردی کی عادت ڈالی جائے اور انسان خدا تعالیٰ کی صفات اپنے اندر داخل کرے تو پھر کمزوری اور ضعف کوئی عذر نہیں ہو سکتا۔ پس یہ ضعف والا معاملہ نازک ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مذکورہ بالا الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ ضعف بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے جو روزہ چھوڑا جائے وہ اس وقت تک نہ چھوڑا جائے جب تک سخت معذوری نہ ہو ۔ لیکن بیمار اور مسافر کے لئے یہ شرط نہیں ایک مسافر خواہ کتنا ہی ہٹا کتا کیوں نہ ہو اسے روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔ اس طرح وہ شخص جسے ڈاکٹر کہتا ہے کہ بیمار ہے اگر روزہ رکھے گا تو اس کا روزہ نہیں ہو گا وہ صرف بھوکا رہے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس حوالہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ حالت جس میں انسان بمنزلہ بیمار کے ہو اس میں بہت احتیاط سے کام لے۔ جو شخص بیمار یا مسافر ہو وہ تو خدا تعالی سے کہے گا میں نے آپ کا حکم مانا اور روزہ نہ رکھا۔ لیکن جو ب لیکن جو بیمار سے مشابہ ہے وہ یہی کہہ سکتا ہے کہ میں نے قیاس کیا میں بیمار ہوں اس لئے میں نے روزہ نہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ثبوت لاؤ تمہار اقیاس ٹھیک