خطبات محمود (جلد 13) — Page 422
خطبات محمود ۲۲ 51 دنیا کی ترقی کا مدار اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا حصول الہام الہی پر منحصر ہے (فرموده ۱۵- اپریل ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ مذہب کی بنیاد حقیقتاً وحی الہی پر ہوتی ہے۔ اور مذہب کی ضرورت بھی تبھی سمجھی جاسکتی ہے جب انسانی عقل بعض مقامات پر جا کر رک جاتی ہو اور ہمیں مدد دینے سے قاصر رہ جاتی ہو ورنہ اگر انسان اپنی عقل اور تدبیر سے ہی تمام کام چلا سکتا تو یقینا اس امر کی کوئی ضرورت نہ ہوتی اور کوئی ضرورت نہیں تھی کہ اللہ تعالٰی اپنے الہام کے ذریعہ دنیا کو ہدایت دے یا انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کرکے دنیا کے امن کو بظاہر خطرہ میں ڈال دے۔ اللہ تعالی کی طرف سے دنیا میں جب بھی کوئی مامور آتا ہے تو دنیا میں خطر ناک فساد پیدا ہو جاتا ہے اور ظاہر ہیں نگاہیں محسوس کرتی ہیں کہ بجائے امن ترقی کرنے کے فتنہ فساد کی راہیں کھل گئیں بجائے قلوب میں محبت پیدا ہونے کے لڑائی اور جھگڑے کے لئے راستے پیدا ہو گئے اور بجائے ترقی کرنے کے لوگ تنزلی کی طرف مائل ہو گئے اور اس میں کوئی شبہ نہیں اگر ہم انبیاء کی روحانی برکات کو نظر انداز کر دیں اور وہ امیدیں جو ان کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں انہیں بھلا دیں تو یقینا وہ فتنہ و فساد جو ان کی بعثت پر رونما ہوتا ہے اتنا بھیانک اور ایسا خطرناک نظر آتا ہے کہ انسانی عقل اس پر رنگ اور حیران رہ جاتی ہے اور یہ صرف کفار کا ہی نظریہ نہیں ہو تا مومن بھی ہیں سمجھتے اور کہتے ہیں بلکہ مومنوں نے ہی کیا کہنا ہے اللہ تعالی کے ملائکہ بھی یہی کہتے ہیں جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو مبعوث کیا تو