خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 423

خطبات محمود ۲۳ حرام سال ۱۹۳۲ء اس وقت فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہی کہا آپ کے مبعوث کرنے لگے ہیں ہمیں نظر آتا ہے کہ اس کے ذریعہ دنیا میں سفک دم ہو گا۔جھگڑا و فساد پیدا ہو گا۔اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس بات سے انکار نہیں کیا۔بلکہ اسے تسلیم کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس کا فائدہ نقصانات سے بہت زیادہ ہے۔بے شک اس کے ذریعہ دنیا میں فتنہ و فساد پیدا ہو گا۔بے شک باپ بیٹے سے اور بیٹا باپ سے جدا ہو گا۔بے شک لوگوں میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہو جائے گا۔اور بے شک آپس کی محبت اور پیار میں انقطاع واقع ہو جائے گا۔لیکن پھر بھی جو فوائد اس کی بعثت سے متعلق ہیں وہ اس قدر زیادہ اور اتنے اہم ہیں کہ ساری دنیا کی تباہی بھی ان کے آگے کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔پھر ملائکہ نے ہی کیا کہنا ہے خود وہ انبیاء بھی جنہیں اللہ تعالٰی مبعوث کرتا ہے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ان کے آنے پر دنیا میں فتنہ و فساد بھڑک اٹھتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کا مشہور قول ہے۔انہوں نے کہا کیا تم گمان کرتے ہو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں۔میں تم سے کہتا ہوں کہ نہیں بلکہ جدائی کرانے۔کیونکہ اب سے ایک گھر کے پانچ آدمی آپس میں مخالفت رکھیں گے۔دو سے تین اور تین سے دو۔باپ بیٹے سے مخالفت رکھے گا اور بیٹا باپ سے۔ماں بیٹی سے اور بیٹی ماں سے۔ساس بہو سے اور بہو ساس سے۔میں اس لئے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کردوں۔اور آدمی کے دشمن اس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔اور پھر انبیاء نے ہی کیا کہنا ہے خود دنیا کو پیدا کرنے اور ان رسولوں کو مبعوث کرنے والا خدا بھی یہی کہتا ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے ہم جب بھی دنیا میں الہام نازل کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے۔اَمَرُنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيهَا " ہمارے احکام جب اس زمانہ کے مرقد الحال لوگوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں اور وہ ان کا انکار کرتے ہیں تو لڑائی اور فساد ترقی کر جاتا ہے۔پس ہر ایک ہستی اس بات پر متفق ہے۔خواہ وہ خالق ہو یا مخلوق ، نبی ہوں یا فرشتے ، مومن ہوں یا کافر کہ انبیاء کی بعثت کے ساتھ دنیا میں عالمگیر لڑائی رجھگڑا پیدا ہو جاتا ہے۔کفر اور اسلام اس بات پر جمع ہو جاتا ہے اور مومن و کافر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ انبیاء کے ساتھ دنیا میں فتنہ و فساد نہ صرف رونما ہو تا بلکہ حد سے زیادہ ترقی کر جاتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ پھر کیوں اللہ تعالیٰ ان فتنہ و فساد کی راہوں کا کھلا رہنا برداشت کر لیتا ہے۔کیوں نبیوں کو مبعوث کر کے ان جھگڑوں میں اضافہ کر دیتا ہے اور کس لئے سلسلہ نبوت کو بند کر کے دنیا کو امن و چین سے زندگی بسر کرنے نہیں دیتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فتنہ و فساد خدا کے ا