خطبات محمود (جلد 13) — Page 418
خطبات محمود ۴۱۸۰ سال ۱۹۳۲ء قرآن مجید حدیث پر مقدم ہے اس لئے بہر صورت قرآن سے اپنے مدعا کو ثابت کرنا ہو گا۔اس پر بہت دنوں بحث رہی اور بحث کو مختصر کرنے کے لئے اور اس لئے کہ تا کسی نہ کسی طرح مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ ہو جائے حضرت خلیفہ اول اس کی بہت سی باتوں کو تسلیم کرتے چلے گئے۔اور مولوی محمد حسین صاحب بہت خوش تھے کہ جو شرائط میں منوانا چاہتا ہوں وہ مان رہے ہیں اس دوران میں میاں نظام الدین صاحب وہاں جاپہنچے اور کہنے لگے اب تمام بحثیں بند کر دو۔میں اب حضرت مرزا صاحب سے مل کر آیا ہوں اور وہ بالکل تو بہ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔میں چونکہ آپ کا بھی دوست ہوں اور حضرت مرزا صاحب کا بھی اس لئے مجھے اس اختلاف سے بہت تکلیف ہوئی۔میں یہ بھی جانتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کی طبیعت میں نیکی ہے اس لئے میں ان کے پاس گیا اور ان سے یہ وعدہ لے کر آیا ہوں کہ قرآن سے دس آیتیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر جانے کے متعلق دکھادی جائیں تو وہ حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہو جائیں گے آپ مجھے ایسی دس آیتیں بتلادیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی طبیعت میں غصہ بہت تھا اور وہ بہت جلد باز تھے۔کہنے لگے کم بخت تو نے میرا سارا کام خراب کر دیا۔میں دو مہینے سے بحث کر کے ان کو حدیث کی طرف لایا تھا اب تو پھر قرآن کی طرف لے گیا۔میاں نظام الدین کہنے لگے اچھا تو دس آیتیں بھی آپ کی تائید میں نہیں۔وہ کہنے لگے تو جاہل آدمی ہے تجھے کیا پتہ کہ قرآن کا کیا مطلب ہے وہ کہنے لگے اچھا تو پھر جدھر قرآن ہے ادھر ہی میں بھی ہوں۔یہ کہہ کر وہ قادیان آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔دیکھو قرآن پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کس قدر اعتماد تھا۔اور آپ کتنے وثوق سے فرماتے تھے کہ قرآن، آپکے خلاف نہیں ہو سکتا۔اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ قرآن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کوئی خاص رشتہ ہے یا اس کا جماعت احمدیہ سے خاص تعلق ہے۔قرآن تو سچائی کی راہ دکھائے گا اور جو فریق سچ پر ہو گا، اس کی حمایت کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چونکہ یقین تھا کہ آپ حق پر ہیں اس لئے قرآن بھی آپ کے ساتھ تھا یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر میرا کوئی دعویٰ قرآن کے مطابق نہ ہو تو میں اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں۔اس کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے دعوی کے متعلق کوئی شک تھا بلکہ یہ کہنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ قرآن میری تصدیق ہی کرے گا۔یہ امید ہے جس نے ہمیں دنیا میں کامیاب کر دیا اور آج وہی قرآن ہمارے