خطبات محمود (جلد 13) — Page 419
خطبات محمود ۴۱۹ سال ۱۹۳۲ء ہاتھوں میں ایک زندہ کتاب ہے۔کل ہی مجھے ایک دوست نے جو غیر احمدی ہیں ، خط لکھا جس میں وہ لکھتے ہیں۔میں نے آج سے کچھ عرصہ پہلے سلسلہ کی مخالف کتابیں پڑھیں اور مجھے ان کے پڑھنے سے یوں معلوم ہوا کہ ان لوگوں میں نہ صرف یہ کہ صداقت نہیں بلکہ ان کا صداقت سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔پھر میں نے کچھ سلسلہ کی کتابیں پڑھیں تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کتابوں میں روحانیت پائی جاتی ہے۔مجھے آپ اور ایسی کتابیں بتائیں جو میں پڑھوں اور جن کے پڑھنے سے مجھے سلسلہ کے متعلق مزید واقفیت حاصل ہو۔یہ کیا چیز ہے جس کی وجہ سے قرآن ہمیں ہر میدان میں کامیاب کر دیتا ہے۔وجہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمارے دلوں میں یہ امید بھر دی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے اور اس پر جو شخص غور کرے گا وہ اس میں نئے حقائق اور نئے معارف پائے گا۔باقی لوگ نا امید ہو گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ جو کچھ ان کے بزرگوں کو مل گیا وہی سب کچھ تھا۔اب آئندہ کے لئے قرآن کے معارف کا دروازہ بند ہو چکا اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر شخص سے اس کی نیت کے مطابق معاملہ ہوتا ہے اس لئے جب مسلمانوں نے یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالی نے اپنے معارف کا دروازہ بند کر دیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے حقیقتاً ان پر قرآن کے معارف کے دروازے کو بند کر دیا۔رسول کریم مال ایک دفعہ وعظ فرما رہے تھے۔آپ نے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالٰی نے بتایا ہے ابھی تین آدمی اس مجلس میں آئے۔ایک نے دیکھا کہ بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں وہ یہ دیکھ کر واپس چلا گیا۔دوسرا شخص آیا اور اسے جہاں بیٹھنے کی جگہ مل گئی بیٹھ گیا۔اسے شرم آئی کہ وہ واپس جائے۔پھر تیرا شخص آیا اس نے بھی دیکھا کہ بیٹھنے کے لئے جگہ نہیں۔مگر اس نے گھس کر آگے اپنے لئے جگہ بنالی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ شخص جو آیا اور مجلس سے منہ پھیر کر چلا گیا میں نے بھی اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور جس نے شرم کی اور بیٹھ گیا میں نے بھی اس کے گناہوں سے چشم پوشی کی اور وہ شخص جس نے آگے اپنے لئے جگہ بنالی میں نے بھی اسے اپنے قرب میں جگہ دی تو جیسا انسان خدا سے اپنے متعلق امید رکھتا ہے ویسا ہی اس سے سلوک ہوتا ہے۔جب ہمارے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ امید پیدا کی ہے کہ وہ ہم پر اپنے معارف کھولے گا تو یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم پر معارف کا دروازہ کھولا گیا۔نہ صرف پہلوں جتنا بلکہ ان سے بہت زیادہ اس لئے کہ ہر زمانہ کے لئے معارف اور علوم الگ الگ ہوتے ہیں۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے تازہ الہام کے زمانہ کا قرب عطا کیا ہے۔پس اس وجہ سے ہم پر بہت زیادہ معارف کھلے۔مگر پہلے مفترین میں سے کوئی ایسا مفتر نہیں جسے یہ بات حاصل ہوئی ہو بلکہ تمام مفسرد و سواد ر