خطبات محمود (جلد 13) — Page 411
اله خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء سے باہر نکلے اور بارہ دفعہ ہی انہیں شکست اٹھانی پڑی۔ان متواتر شکستوں کی وجہ سے ان کی حالت اس قدر مخدوش ہو چکی تھی کہ انہیں بعض دفعہ زنانہ بھیس بدل کر باہر جانا پڑتا۔تاریخوں والے لکھتے ہیں کہ ایک دن وہ قضائے حاجت کے لئے بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے دیکھا ایک چیونٹی نے دیوار پر چڑھنا شروع کیا۔تھوڑا سا اونچا چڑھی تھی کہ نیچے گر پڑی اس نے پھر چڑھنا شروع کیا اور پھر گر پڑی۔یہاں تک کہ وہ بیسیوں دفعہ گری مگر برابر چڑھتی رہی اور اس نے ہمت نہ ہاری یہاں تک کہ آخری مرتبہ دیوار پر چڑھ ہی گئی۔انہوں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو وہ فارغ ہو کر باہر آئے اور انہوں نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ اب میں نے ترقی کار از پالیا ہے۔اگر چیونٹی متواتر گرنے کے باوجود اپنی ہمت نہیں ہارتی اور آخر اپنے مقصد کو پالیتی ہے تو مجھے تو خدا نے انسان بنایا ہے میں بارہ شکستوں سے ہی کیوں گھبرا جاؤں۔چنانچہ وہ پھر اپنی فوج سمیت نکلے اور اس مرتبہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے ایران افغانستان اور پھر ہندوستان کو بھی فتح کر لیا۔پس امید اور یقین ہی ہے جو کامیابی کی منزل کو قریب کر دیتا ہے۔اور امید اور یقین ہی ہے جو تاریکیوں کو دور کرتا اور ناکامیوں کو پرے ہٹا دیتا ہے۔لیکن مایوسی باوجود کامیابیوں کے سامان مہیا ہونے کے انسان کو نا کامی کے گڑھے میں گرا دیتی ہے۔کتنے ہی لوگ ہیں جو خدا کے دروازے میں داخل ہونے سے محض اس لئے محروم رہ گئے کہ وہ مایوس ہو گئے۔اور انہوں نے خیال کیا کہ ہم اللہ تعالی تک نہیں پہنچ سکتے۔لیکن وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر یقین رکھا وہ باوجود اپنی کمزوریوں کے اس کی رحمت کے سایہ کے نیچے آگئے۔رسول کریم میم نے ایک دفعہ اسلام سے پہلی قوموں کے حالات بیان کرتے ہوئے ایک واقعہ بیان فرمایا جس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ پر امید رکھنے والا انسان آخر نجات پا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ پرانے زمانہ میں ایک شخص تھا جو بہت ہی بد کردار تھا۔قتل جیسا فعل جس میں بڑے سے بڑا قاتل بھی چند آدمیوں کے قتل سے تجاوز نہیں کرتا اس میں بھی اس نے یہاں تک ترقی کی کہ ستر آدمی مار ڈالے تھے۔آخر اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہئے۔کیا تعجب ہے کہ میرے گناہوں کی معافی کا بھی کوئی سامان ہو جائے اور اللہ تعالیٰ میرے عیوب سے چشم پوشی کرتے ہوئے مجھے اپنی مغفرت کے دامن کے نیچے چھپالے۔وہ اس خیال کے ماتحت ایک عالم کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ میں نے اب تک یہ یہ گناہ کئے ہیں اور علاوہ انکے متر قتل بھی کئے ہیں۔کیا میرے لئے بھی اللہ تعالیٰ کے