خطبات محمود (جلد 13) — Page 387
خطبات محمود ۳۸۷ سال ۱۹۳۲ء لوگ ایمان لاتے تو ان کے ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوتا اور وہ روحانی ترقیات سے محروم رہتے ۔ پس چونکہ ایمان اپنے ساتھ بعض مخفی امور بھی رکھتا ہے اور اگر اس جہان میں ان روکوں کو ہٹا کر سب کچھ سامنے رکھ دیا جاتا تو ترقیات حاصل نہ ہو سکتیں اور انسانی پیدائش کی غرض باطل ہو جاتی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے موت کا دروازہ کھلا رکھا اور رسول کریم میں نے فرمایا لیکل دَاءِ دَوَاءَ إِلَّا الْمَوْتُ ہر بیماری کی دوا ہے مگر موت کی نہیں۔ کیونکہ موت بیماری نہیں بلکہ ترقیات کا زینہ ہے۔ پس جب دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر مصیبت کا علاج رکھا ہے تو ضروری ہے کہ ہم اللہ تعالٰی سے کسی وقت بھی مایوس نہ ہوں کیونکہ جس وقت کوئی شخص مایوس ہو جاتا ہے اس وقت وہ خدا سے دور ہو جاتا ہے۔ شیطان کے قریب ہو جاتا ہے اور شیطان کے متعلق اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتا ہے وہ ہلاکت کی طرف بلاتا ہے اور اپنے متعلق فرماتا ہے کہ ہم مغفرت اور رحمت کی طرف بلاتے ہیں۔ پس جہاں کسی کے دل میں مایوسی پیدا ہو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ شیطان کے قریب ہو رہا ہے اور جب کسی کے دل میں امید اور امنگ پیدا ہو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ خدا کے قریب ہو رہا ہے۔ مگر ایک بات ہے جس سے ہوشیار رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ اگر دل میں امنگ پیدا ہو اور اس کے ساتھ ہی ہے بے فکری کا خیال پیدا ہو تو یہ امنگ بھی شیطانی ہوگی کیونکہ شیطان کا یہ بھی کام ہے کہ وہ جھوٹے وعدے دے کر لوگوں کو غافل اور گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن جب امنگ پیدا ہو اور اس کے ساتھ ہی کام کا جوش بھی پیدا ہو اور جب امید ہو تو ساتھ ہی اور زیادہ جوش سے کام کرنے کا خیال پیدا ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ امید اور امنگ خدا کی طرف سے ہے۔ وہ قو میں جو یہ سمجھتی ہیں کہ ہم آپ ہی آپ دنیا میں جیت جا جیت جائیں گی انہیں انہیں یہ سمجھ لینا ۔ لینا چاہئے کہ وہ شیطان کے قبضہ میں ہیں۔ اور وہ قومیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہم محنت اور کام کرنے میں دو سروں سے پیچھے نہیں رہیں گی اور ہم زیادہ سے زیادہ کام کرتی چلی جائیں گی انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ خدا کے قبضہ میں ہیں۔ پس امیدیں بھی دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ امید جو شیطان کی طرف سے آتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ امید دلائی جاتی ہے کہ کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ اس امید کی دوسری صورت وہ تو کل تھا جو فیح اعوج میں مسلمانوں نے اختیار کیا اور جس کی وجہ سے وہ ذلیل ہو گئے۔ مسلمانوں نے خیال تو کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں مگر اسکے ساتھ انہوں نے محنت کرنی چھوڑ دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ برباد ہو گئے۔ یہ شیطانی امید تھی۔ وہ سری امید وہ ہے جو رسول کریم