خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 379

2 2 ۳۷۹ سال ۱۹۳۲ء میں خطبات محمود کرتے ہیں ہے۔ ۔ اس پر گورنر پر کھل گیا کہ رسول کریم میں یہ خدا کے رسول ہیں اور اس علا اسلام پھیل گیا ۔ تو اللہ تعالیٰ کے کام کے لئے بندوں سے نہیں ڈرنا چاہئے ۔ یہ خطرہ تو ہو سکتا ہے کہ ہماری کمزوریاں اس میں کوئی خرابی نہ ڈال دیں وگرنہ دنیا کی سب طاقتیں مل کر بھی اسے نہیں روک سکتیں۔ خدا تعالی کی تائید و نصرت شامل حال ہو تو بڑی بڑی حکومتیں بھی شکست کھا جاتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کے مظلو کے مظلوم بندوں کی حمایت میں لگے رہو ۔ ابھی چند روز کی بات ہے کہ یہی وزیر اعظم استنا زور ریاست میں رکھتے تھے کہ سب ان سے ڈرتے تھے اور کسی کو ان کے منشاء کے خلاف چلنے کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ اس وقت میں نے انہیں کہلا بھیجا کہ یہ سب رعب و داب چند روز کی بات ہے اگر آپ اس عہدہ پر رہنا چاہتے ہیں تو مسلمانوں کے ساتھ صلح کرلیں۔ چنانچہ پچھلے دنوں جو میں لاہور گیا تو ان کے بھائی کے پاس جو لاہور میں رہتے ہیں درد صاحب کو بھیجا کہ جاکر کہیں کہ وہ اپنے بھائی کو یہ سمجھائیں کہ مسلمانوں کے حقوق دے دیں اور ظلم اور تعدی سے باز آجائیں ورنہ وہ اپنے عہدہ پر نہیں رہ سکیں گے۔ درد صاحب دس بجے کے قریب وہاں سے واپس آئے اور گیارہ بجے وہ خود اپنے بھائی کے مکان پر پہنچ گئے۔ ان کے بھائی نے میرا پیغام ان کو پہنچا دیا جسے وہ سنتے ہی جموں۔ وہ سنتے ہی جموں چلے گئے ۔ مگر وہاں جو کچھ وہاں جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ میں نے اللہی خبر کے ماتحت یہ نہیں کہا تھا بلکہ ان کے متعلق جو خبریں مجھے ملیں ان کو میں نے قبول کر لیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اس میں اللہ تعالٰی کا ہاتھ ہے۔ کشمیر کے باقی ظالم افسروں کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ انسان کے لئے سب سے بڑی تباہی یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو نہیں پہچانتا اور غرور میں رہتا ہے ۔ دوستوں کو چاہئے کہ پہلے سے بھی زیادہ دعا ئیں کریں اور مالی و جانی قربانیوں کے لئے بھی تیار رہیں۔ میں نے بتایا تھا کہ یہ بھی غلام کو آزاد کرانا ہے۔ اب اس قسم کے غلام تو نہیں جو پہلے زمانہ کے تھے اس لئے اس زمانہ میں ایسے لوگوں کو جو اس طرح مظلوم اور حکام کی تیغ ستم کے نیچے ہیں ، چھڑانا غلاموں کو آزاد کرانے کے مترادف اور ثواب کا موجب ہے۔ (الفضل ۲۵ فروری ۱۹۳۲ء)۔ طبری جلد ۳ صفحه ۱۵۷۲ تا ۱۵۷۴ مطبوعہ بیروت