خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 363

خطبات محمود سال کے مقابل پر کھڑے تھے پھر بھی آپ ہی غالب ہوئے اور آپکے مخالف ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو گئے یہ تو مومنوں کا ذکر تھا۔کفار کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بیان فرماتا ہے کہ گو وہ بھی تکلیفیں برداشت کرتے ، مصیبتیں اور اذیتیں جھیلتے اور رنج و الم سہتے ہیں اور وہی بلا ئیں انہیں بھی پہنچتی ہیں جو مسلمانوں کو پہنچتی ہیں اور وہ ویسی ہی تکالیف برداشت کرتے ہیں جیسی مسلمان برداشت کرتے ہیں مگر تَرْجُونَ مِنَ اللهِ مَا لا يَرْجُونَ اے مومنو تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے جن انعامات اور فضلوں کے امیدوار ہو انکے وہ امیدوار نہیں اور چونکہ انکے کاموں کے پیچھے کوئی امید کی شعاع روشن نہیں ہوتی اور نہ ان کے ساتھ اللہ تعالٰی کی تائیدات کے وعدے اور اس کے فضلوں کی بارش ہوتی ہے اس لئے باوجود اس کے کہ وہ بھی جرأت اور بہادری دکھاتے ہیں وہ بھی تکالیف اور مصائب برداشت کرتے ہیں مگر ان کی بہادری دیر پا نہیں ہوتی۔وہ وحشت اور تھور کے ساتھ تو کام کرتے ہیں لیکن شجاعت جو استقلال سے کام میں لگے رہنے اور مردانہ وار بڑی سے بڑی مشکلات کا مسلسل مقابلہ کرنے کا نام ہے وہ ان میں مفقود ہوتی ہے۔اور منافقوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ کفار سے وعدہ کرتے ہیں کہ جنگ کے موقع پر ہم تمہاری پشت پناہ ہوں گے تمہاری مدد کریں گے اور تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں کو کچل دیں گے۔مگر ان کے سب وعدے جھوٹے ہیں۔کبھی منافق بھی بہادر ہو سکتا ہیں ؟ اگر انہوں نے تمہار ا ساتھ نہیں دیا تو ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں کہ وقت آنے پر کافروں کا بھی ساتھ نہیں دیں گے کیونکہ وہ منافقت اور دلیری بالکل متضاد چیزیں ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ان تینوں درجہ کے لوگوں کا ذکر کر دیا۔یعنی مومن کافر اور منافق کے اخلاق و عادات کا قرآن مجید میں ذکر فرما دیا۔مؤمن کے متعلق تو بتایا کہ ایک ایک مؤمن دس دس کافروں پر بھی بھاری ہوتا ہے اور اگر اس کے ایمان میں مضبوطی اور زیادتی ہوتی چلی جائے تو اسی کیفیت سے وہ اور زیادہ کافروں پر بھاری ہو گا۔کافروں کے متعلق فرمایا کہ گو ایک کافر بھی بہادر ہو سکتا ہے لیکن اس کی بہادری دیر پا نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے سامنے کوئی اعلیٰ مقصود نہیں ہوتا جو اس کی بہادری کو قائم رکھ سکے۔زیادہ سے زیادہ اسے تہور کہا جا سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ اسے و حشت یا دیوانگی کا نام دیا جا سکتا ہے مگر شجاعت اور دلیری اسے نہیں کہا جا سکتا۔اور منافقوں کے متعلق فرمایا جو شخص منافق ہوتا ہے وہ بہادر ہوتاہی نہیں۔یہ بالکل غلط ہے اور ہو نہیں سکتا کہ کوئی شخص منافق ہو اور پھر بھی وہ دلیر بہادر اور نڈر ہو۔