خطبات محمود (جلد 13) — Page 31
خطبات محمود ٣١٠ سال ۱۹۳۱ء ۔ کے یہ : یہ معنے کے سوا باقی سب کے لئے غروب آفتاب تک روزہ رکھنا فرض ہے۔ شریعت کے تمام مسائل میں سہولت ہوتی ہے مگر سہولت کی بھی حد ہوتی ہے۔ رسول کریم میں ہم نے اس امر کو پسند فرمایا ہے کہ جتنی دیر دیر سے سحری کھائی جائے اور جتنی جلدی افطار کیا جائے اچھا ہے لیکن اس بھی نہیں کہ دن کے روشن ہو جانے کے بعد کھا پی لیا جائے۔ پھر کئی اس امر پر بحثیں کرتے رہتے۔ ہیں کہ روشنی کا ذرا شبہ ہو جانے پر بھی کھانا چھوڑ دینا چاہئے۔ حالانکہ قرآن کریم نے يَتَبَيَّنَ لَكُمْ فرمایا ہے۔ جس طرح کسی کمزور نظر والے کاتبین کے بعد بھی نہ دیکھ سکتا اس امر کی دلیل نہیں کہ ابھی تبین نہیں ہوا۔ اسی طرح کسی وہمی یا تیز نظر والے کا شک بھی اسے ثابت نہیں کر سکتا۔ يَتَبَيَّنَ لَكُمْ کے معنی یہ ہیں کہ جب قومی لحاظ حاظ سے عام طور پر طور پر لوگ کہیں کہ تبین ہو چکا ہے اس وقت تک کھانا جائز ہے اذان کی اس میں کوئی شرط نہیں یہ صرف دھیوں کے لئے ہے۔ مجھے اس دفعہ کے جلسہ سالانہ کی تقریروں میں سے ایک بزرگ صحابی کی تقریر میں یہ بات پڑھ کر سخت تعجب ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اذان کے بعد کھانا پینا ترک کر دیتے تھے حالانکہ قرآن حدیث فقہ اور عقل کے مطابق اذان کوئی دلیل نہیں اور تبین کی کوئی علامت نہیں۔ رسول کریم می اذان کو تبین کی علامت بنانے کی کوشش ضرور کرتے تھے ۔ چونکہ لوگ عام طور پر اندر گھروں میں ہوتے ہیں۔ اس لئے رسول کریم ملی احتیاط کے طور پر کوشش فرماتے تھے کہ اذان ایسے وقت پر ہو جب تبین ہو جائے۔ لیکن اذان بجائے خود تبین کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ ان صاحب کی غلط فہمی ہے جنہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود اذان پر کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے۔ اگر چہ میں اس وقت بچہ تھا لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک دفعہ کسی نے اذان قبل از وقت دے دی۔ تو آپ نے اس کے بعد خود بھی کھایا گھر میں سب کو کھلایا اور فرمایا کہ باہر بھی کہلوا دو کہ اذان پہلے ہو گئی ہے ابھی کھانے پینے کا وقت ہے اگر یہ صحیح ہو کہ حضرت مسیح موعود اذان سن کر کھانا پینا چھوڑ دینا ضروری سمجھتے تھے تو اس سنت پر عمل کرنے کے لئے ضروری ہو گا کہ اگر کوئی بے وقوف تین بجے ہی اذان دے دے تو سب لوگ کھانا پینا چھوڑ دیں مگر اس سے اذان کا تعلق نہیں۔ سحری ختم ہونے کا تعلق تبین سے ہے۔ اور چونکہ ہر ایک گھر میں بیٹھا ہوا تبین نہیں دیکھ سکتا اس لئے محلہ یا شہر یا گاؤں کے جو بزرگ ہوں۔ انہیں کوشش کرنی چاہئے کہ اذان ایسے وقت ہو جب پوری طرح تبیین ہو جائے۔ مجھے اس وقت پوری طرح تو یاد نہیں۔ خیال ہے کہ غالبا رمضان میں رسول کریم ہم کسی نابینا کو مؤذن مقرر فرمایا کرتے تھے ۔ کیونکہ وہ مختلف مل