خطبات محمود (جلد 13) — Page 344
خطبات محمود ام سلام سلام سال ۱۹۳۲ء وقت حاصل ہو گی جب تم اپنے خدا کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اگر دوسروں کے حقوق کو تم نے غصب کیا ہوا ہے تو وہ حقوق ادا کر دو اور اگر تم پر کسی کا مالی یا جانی یا اخلاق حق ہے تو وہ اسے دے دو وگرنہ اگر تم دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے تو خواہ دو سرا شخص تم سے ہزار معافی مانگے اس کا درجہ تو بڑھتا جائے گا لیکن تمہارا جرم اور گناہ بھی ساتھ ہی ساتھ بڑھ جائے گا کیونکہ وہ شخص میرے کہنے پر تمہارے پاس گیا اور اس نے مظلوم ہونے کے باوجود تم سے معافی مانگی مگر تم نے با وجود ظالم ہونے کے اور باوجود اس کے معافی مانگ لینے کے اس کے حقوق کی ادائیگی کا خیال نہ کیا۔ اور تم نے اپنے دل میں یہ سمجھ لیا کہ وہ نیچا ہو گیا۔ پس اپنے نفوس کو اس غرور میں مبتلاء نہ ہونے دو کہ ہم نے دوسرے کو نیچا دکھا دیا ، کیونکہ وہ معافی مانگ کر نیچا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالٰی کی ۔ بارگاہ میں اونچا ہو گیا کیونکہ اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور خلیفہ وقت کی بات مانی مگر تم جو اس وقت اپنے آپ کو اونچا سمجھ رہے ہو دراصل نیچے گر گئے۔ جس طرح انسان جتنا اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں جھکتا ہے اتناہی اس کا درجہ بلند ہوتا ہے حتی کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جو شخص خدا کے لئے نیچے جھکتا ہے خدا اس کو اوپر اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان پر لے جاتا ہے ۔ اسی طرح جو شخص اپنے بھائی سے معافی مانگتا ہے وہ نیچے نہیں گرتا بلکہ اس کا درجہ بلند ہوتا اور خدا کے حضور بہت بلند ہو جاتا ہے۔ پس مظلوموں کے معافی مانگ لینے کی وجہ سے تم یہ مت خیال کرو کہ جس نے تم سے معافی مانگی وہ تمہارے سامنے گر گیا بلکہ اسے خدا نے اونچا کر دیا اور جس کو خدا اونچا کرے اسے کوئی نہیں جو نیچا کر سکے۔ پس اس کے معافی مانگ لینے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ گر گیا یا ذلیل اور رسوا ہو گیا بلکہ اس کے معافی مانگ لینے اور تمہارے غرور اور تکبر کرنے کا یہ مطلب ہے کہ تم اب خدا کے غضب کے خطرہ کے نیچے آگئے کیونکہ جس وقت تم اور وہ دونوں اپنی اپنی ضد پر قائم تھے ، اس وقت تک خدا کا دخل دینار کا ہوا تھا اور اس کی صفات غضبیہ انتظار کر رہی تھیں کہ ان میں سے کون رحمت کی چادر تلے آتا ہے۔ پس جس وقت ایک نے اپنے سر کو جھکا دیا اور مظلوم ہونے کے باوجود ظالم کے پاس آیا اور بے قصور ہو در ہوتے ہوئے معافی مانگی اور وہ جس نے ا ور وہ جس نے اس کا حق دبایا ہوا تھا، اس پر ظلم کیا تھا اسے مالی یا جانی نقصان پہنچایا تھا اپنی ضد پر اڑا رہا اور اس نے خیال کیا کہ میں نے بڑی فتح پائی۔ میرا حریف آخر ذلیل اور رسوا ہوا تو یاد رکھو! ایسے شخص کے خلاف خدا کے غضب کی صفت جوش میں آئے گی اور اس کی غیرت دم نہیں لے گی جب تک وہ اسے پیس کر نہ رکھ دے۔