خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 336

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء ۱ درمیانی رو کیں ہیں۔اور مسلمان اگر مالی قربانی کریں تو یہ کام ہو سکتا ہے۔ایک اور دوست یعنی مولوی محمد دین صاحب بی اے ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے پرسوں ایک خط اور کچھ رقم ارسال کی اور لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ چندہ خاص ادا کرنے کی برکت سے خدا تعالٰی نے توفیق دی کہ میں نے اپنے بچہ کے داخلہ کے لئے جو اس وقت کالج میں پڑھتا ہے کچھ رقم جمع کرلی ہے آپ نے مجھے کہالا ؤ وہ رقم کشمیر کے لئے دیدو۔چنانچہ انہوں نے اس خواب کو پورا کرنے کے لئے مبلغ ایک سو پندرہ روپیہ جو انہوں نے جمع کئے تھے مجھے کشمیر کے لئے بھیج دیئے ہیں۔اور بھی بعض روحانی امور ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ثواب حاصل کرنے کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ کشمیریوں کی امداد کرنا ہے۔پس جب اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا کام پیدا کر دیا ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو ثواب کا موقع دینا چاہتا ہے اور دوسری طرف مہینہ بھی وہ ہے جو خاص طور پر ثواب حاصل کرنے کا ہے تو میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔یہ اتنا آسان کام ہے کہ اس سے زیادہ آسان اور کوئی قومی کام نہیں۔کہتے ہیں محمود غزنوی نے جب ہندوستان پر حملہ کیا تو دو دو روپیہ میں غلام ہکے تھے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک روپیہ بلکہ ایک روپیہ سے بھی بہت کم میں کشمیر کے غلاموں کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔وہاں کی آبادی تمیں لاکھ ہے۔اور میرا اندازہ ہے کہ ان کی آزادی کی تحریک دو تین لاکھ روپیہ میں بھی پایہ تکمیل کو پہنچ سکتی ہے۔کیونکہ الہی سامان ایسے ہوتے ہیں کہ انسان ان کا وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا۔بعض اوقات تو مشکلات کے پہاڑ نظر آتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ انہیں اس طرح اڑا دیتا ہے گویا کبھی تھے ہی نہیں۔بعض اوقات وہاں کے کارکنوں میں ایسی لڑائیاں اور تفرقے پیدا ہو جاتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے اب یہ کام تباہ ہو جائے گا۔مگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے یا تو تفرقوں کو مٹادیتا ہے اور یا تفرقہ پیدا کرنے والوں کی عزت کو مٹادیتا ہے۔جس سے صاف نظر آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مدد اور نصرت اس تحریک کے ساتھ ہے۔باوجود یکہ ہندوؤں نے اسے مذہبی رنگ دینا چاہا اور ہندو مسلم سوال بنا کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر بعض اوقات سخت مخالف ہندو بھی اس کی تائید کرنے لگ جاتے ہیں اور اب کشمیر و جموں کے ہندوؤں میں بھی یہ رو پیدا ہو رہی ہے کہ یہ تحریک ہمارے لئے بھی فائدہ کا موجب ہے اور ان سامانوں کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو کرنا چاہتا ہے۔بندے جو اس میں مدد دیں گے وہ مفت میں ثواب حاصل کرنے والے ہوں گے۔اور اس کے لئے قربانیاں بھی کوئی بہت زیادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ہندوستان کی