خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 334

خطبات محمود م ٣٣ سال ۱۹۳۲ء اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں جن سے وہ جن ہے وہ پکڑتا ہے اور اگر وہ ایک قدم میری طب آتا ہے تو میں ایک سے گز اس کی جانب بڑھتا ہوں اور انسان ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالی سے اس کا کامل اتحاد ہو جاتا ہے۔ اس کے متعلق یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک اللہ تعالی سنتا ہے۔ ہے مگر وہ مادی کانوں کا محتاج نہیں، وہ دیکھتا ہے مگر مادی آنکھوں کا محتاج نہیں، وہ وراء الوری ہستی ہے اور اس کا انسان کے ہاتھ بننے کے معنے یہ ہیں کہ ایسا انسان جب اپنے ہاتھوں سے کام کرنے لگتا ہے تو اللہ تعالی کے تصرف کے ماتحت کام شروع کرتا ہے۔ اور اس کی حفاظت اور نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ پاؤں بننے کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی توجہ پر دنیا میں برکات کا نزول ہو سکتا ہے اس طرح اس بندہ کی آمد و رفت سے بھی برکات الهی وابستہ ہوتی ہیں۔ آنکھیں بننے کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ جس کی طرف محبت و پیار کی نظر ڈالتا ہے اسے معزز و مقبول بنا دیتا ہے اسی طرح اس انسان کی آنکھوں میں وہی تأثیر پیدا ہو جاتی ہے کہ جس کی طرف نگاہ کرے خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہم آج کل رمضان سے گزر رہے ہیں اور اللہ تعالی کے فضلوں کے دروازے ہمارے لئے بھی کھل سکتے ہیں اگر ہم کوشش کریں۔ ہم میں وہ لوگ بھی ہیں جنہیں اللہ تعالی نے وسعت عطا کی ہے وہ خود بھی آرام و آسائش سے رہ سکتے ہیں اور دس ہیں اور کو بھی رکھ سکتے ہیں۔ پھر ہم میں وہ بھی ہیں جو صرف اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ ہی بخوبی پال سکتے ہیں او ر وہ بھی ہیں جو فاقے کرتے ہیں لیکن ہر ایک تکلیف جو خدا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے یا انسان کی سستی سے پیدا ہوتی ہے یا دوسروں کے ہاتھوں پہنچتی ہے اس پر صبر و شکر کرنے سے انتا ثواب نہیں ہوتا جتنا اس تکلیف کا جو انسان خود اپنے نفس پر دارد کرتا ہے۔ ایک انسان جسے ایک ہی وقت کھانے کو ملتا ہے وہ اس سے اتا قرب الہی حاصل نہیں کر سکتا جتنا وہ شخص جسے دونوں وقت کھانا میتر آتا ہے مگر ایک وقت کا وہ خود اپنی مرضی سے نہیں کھاتا بلکہ کسی مسکین کو دے دیتا ہے۔ پہلے نے بھی سات دنوں میں صرف سات بار کھانا کھایا اور دوسرے نے بھی مگر پہلا ثواب کا اتنا مستحق نہیں ہو سکتا جتنا دو سرا کیونکہ اس نے اپنی مرضی ۔ مرضی سے ایسا کیا لیکن پہلے نے مجبوری ہے ۔ بے شر ہے ۔ بے شک مجبوری کے ماتحت تکلیف اٹھانے والا بھی ثواب کا مستحق ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے اور شرائط ہیں۔ اس کے لئے اللہ تعالی نے صبر کا مقام رکھا ہے۔ لیکن عبر کے وہ معنی نہیں جو ہمارے ملک میں عام طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ بلکہ وہ ہیں جو اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے بیان کئے تھے ۔ اگر انسان یہ بات حاصل