خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 314

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء اللہ تعالیٰ تو اس قدر غیرت رکھتا ہے کہ قرآن مجید میں فرماتا ہے بعض منافق لوگ رسول کریم کے پاس آتے اور آکر قسم کھا کر کہتے کہ تو اللہ کا رسول ہے۔مگر اللہ تعالی فرماتا ہے تو تو واقعی اللہ کا رسول ہے مگر یہ منافق جو زبان سے تجھے اللہ کا رسول کہہ رہے ہیں یہ اپنے اس دعوئی میں بالکل جھوٹے ہیں کیونکہ ان کے دل تجھے رسول نہیں مانتے۔وہ خداجو اپنے رسول کے لئے اس قدر غیرت رکھتا ہے کہ رسالت کا جھوٹا اقرار منافق لوگوں کے منہ پر مارتا ہے اور جو خدا اپنے بندوں کی خاطر اس قدر غیرت دکھلاتا ہے کیا وہ اپنی خاطر غیرت نہیں دکھلائے گا اور کیا کسی کا اس رنگ میں اَلحَمدُ لله رب العلمین کہنا اس کے حضور مقبول ہو سکتا ہے ہرگز نہیں۔بھلا غور تو کرو ایک وقت ہماری کافی تعداد خدا تعالیٰ کے حضور کھڑی ہو کر کہتی ہے کہ اے خدا تو ہمارا بڑا ہی محسن ہے ، ہمارا بھی اور ہمارے باپ دادوں کا بھی۔ہماری نسلوں اور ہمارے دوستوں اور ہمارے ہم عصروں کا بھی تو حیوانات کا بھی محسن ہے اور نباتات کا بھی ، جمادات کا بھی محسن ہے۔اور زمین و آسمان، فرشتوں اور جنات ، مخفی اور ظاہری غرض ہر چھوٹی اور بڑی چیز پر تیرے احسانات ہیں اور تو ہی سب کا پالنے والا اور ان کی پرورش کرنے والا ہے لیکن جب ہم نماز پڑھ کر اٹھیں اور ہماری زبانوں پر یہ ہو کہ ہمیں بڑا دکھ ہے مصیبت ہی مصیبت ہے ، راحت کا کوئی سامان نہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ ہماری یہ نماز مقبول ہوگی اور کون کہہ سکتا ہے کہ ہم الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین کی آیت کی خوبصورتی کے قائل ہیں۔اس موقع پر بھی مجھے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کا ایک واقعہ یاد آیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک لڑکا تھا ان کی پہلی بیوی سے اولاد فوت ہو جایا کرتی تھی پھر دوسری شادی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے کرائی) فرماتے وہ لڑکا جب جوانی کے قریب پہنچا تو مجھے امید ہوئی کہ آئندہ زمانہ میں میرا نام قائم رکھنے والا بھی خدا نے پیدا کر دیا ہے وہ بارہ تیرہ برس کا ہو گیا۔ایک دن جب میں دربار سے آیا اس وقت آپ جموں میں ملازم تھے ) تو لڑکے نے کہا مجھے ایک گھوڑا منگوا دیں میں اس پر سواری سیکھوں گا۔فرماتے مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میرا دل مسرت سے بھر گیا کہ اب میرا بچہ گھوڑے پر سواری کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔آپ فرماتے ہیں میں باہر آیا اور ایک شخص کو ہدایت دینے لگا کہ ایسا ایسا گھوڑا خرید کر لاؤ کہ اتنے میں گھر سے رونے کی آواز آئی۔میں نے جلدی سے دریافت کیا کہ کیا ہوا تو کسی نے کہا کہ آپ کا بچہ فوت ہو گیا ہے۔غالیا اسے کوئی دوائی دی گئی جس سے اچھو آیا اور وہ مر گیا۔فرماتے تھے اس اچانک حادثہ کا میری