خطبات محمود (جلد 13) — Page 313
خطبات محمود ۳۱۳ سال ۱۹۳۱ و جاتی۔ہم جس وقت اپنے کپڑوں کو میلا دیکھتے ہیں دراصل اسی وقت سے ہمیں اپنے کپڑوں کے بدلنے کا خیال آتا ہے یا جن لوگوں نے کپڑے بدلنے کی باریاں اور تاریخیں مقرر کی ہوتی ہیں وہ بھی اس تاریخ کے آنے سے کئی گھنٹے قبل یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں وقت کپڑے بدلنے ہیں پس دراصل ہم کئی گھنٹے سے کپڑے بدل رہے ہوتے ہیں یہ نہیں کہ جس وقت کپڑے بدلنا شروع کرتے ہیں اسی وقت بدلتے ہیں کیونکہ ہماری نیت کئی گھنٹے سے تھی اور اسوجہ سے ہمار اوہ کام جس پر بسم اللہ کہنی تھی کئی گھنٹے پہلے سے شروع ہو گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم م نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں باجماعت نماز کی انتظار میں رہتا ہے وہ دراصل نماز میں ہی ہوتا ہے۔پس جس وقت سے ہم کسی سفر کا خیال کرتے ہیں یا جس وقت سے ہم کسی کی ملاقات کا خیال کرتے ہیں یا جس وقت سے کسی مکان بنانے کا تہیہ کرتے ہیں یا جس وقت سے کھانا کھانے کا ارادہ کرتے ہیں یا جس وقت سے اپنے کپڑے بنانے یا پہننے کا ارادہ کرتے ہیں یا جس وقت سے ہم اپنی بیوی اور بچوں کی پرورش کا خیال کرتے ہیں یا جس وقت سے ہم نکاح کا ارادہ یا خیال کرتے ہیں اگر اس وقت ہم بسم اللہ نہیں کہتے اور اگر اسی وقت سے ہم اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ نہیں کرتے تو در حقیقت ہم بسم اللہ کے فرائض کو قطعا ادا نہیں کرتے۔پھر ہم نماز میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں الحمد لله ر KNOWLEDGE مگر کتنے ہم میں سے ہیں جو اس وقت دل سے الحمد لله KANANALOGUE TO کہ رہے ہوتے ہیں اور کتنے ہم میں سے ہیں جو فی الواقع یہ سمجھتے اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے احسانات ہیں۔تم اپنے سب کاموں اور معاملات پر غور کرو تو نہ صرف بعض اوقات اپنے اندر اللہ تعالیٰ کی حمد کا مادہ نہیں پاؤ گے بلکہ بعض دفعہ اپنی نا سمجھی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ظالم قرار دے رہے ہو گے۔نا صرف وہ لوگ جن کو ظاہری صحت اور دولت نہیں ملی بلکہ وہ لوگ بھی جن کو صحت اور دولت ملی ہوتی ہے وہ بھی عام طور پر اللہ تعالیٰ کی حمد نہیں کرتے۔تم کسی غریب کے پاس چلے جاؤ وہ یہی کہتا سنائی دے گا کہ میں بڑی مصیبت میں ہوں فاقے ہی فاقے آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بے شک نعمتیں پیدا کی ہیں مگر میرے لئے نہیں۔پس جس شخص کا دل یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے لئے نعمتیں پیدا نہیں کیں یا پیدا تو کیں مگر ان نعمتوں کے چھینے والے بھی کھڑے کر دیئے تو وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمين وہ اگر ایسا کہے گا اور اس کی قلبی کیفیت اس کے خلاف کہہ رہی ہوگی تو وہ یقیناً جھوٹا اور منافق ہو گا۔