خطبات محمود (جلد 13) — Page 312
خطبات محمود ۳۱۲ سال ۶۱۹۳۱ ت اسلام سے کوئی حقیقی تعلق نہ رکھنے کے اس سورۃ کی تاثیر اور اس کے فوائد کا اقرار کیا مگر نہ اس لئے کہ اس کی خوبصورتی کا اظہار کرے بلکہ اس لئے کہ مسلمانوں کی اس سے بے اعتنائی کا رونا روئے ۔ اس کے مقابلہ میں مسلمان کم از کم میں دفعہ اپنی فرض نمازوں میں اسے دہراتے ہیں مگر باوجود اسکے انہوں نے کبھی اس کے مطالب پر بھی غور کیا؟ وہ طوطے کی طرح رہنا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں الْحَمْدُ لِلهِ ۳ بلکہ اس سے بھی پہلے کہتے ہیں بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ خدا کا نام لے کر ہم اس کام کو شروع کرتے ہیں لیکن کتنے کام ہیں جو واقعہ میں ہم خدا کے نام سے شروع کرتے ہیں کتنے کاموں کی ابتداء میں ہماری نگاہ اللہ تعالیٰ پر ہوتی ہے اور کتنے کاموں کے شروع میں ہمارے اندر اخلاص اور محبت الہی بھری ہوئی ہوتی ہے ہم کہتے تو یہ ہیں کہ خدا کا نام لے کر ہم یہ کام شروع کرتے ہیں اور ممکن ہے بہت سے لوگ جب کھانا ان کے سامنے آتا ہو تو وہ بسم اللہ کہہ کر اسے شروع کرتے ہوں لیکن کتنے کہہ سکتے کہہ سکتے ہیں کہ واقعہ میں ان کا کھانا بِسمِ اللهِ شروع ہوتا ہے ۔ بہت کثرت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا کھانا بسم اللہ سے شروع نہیں تا بلکہ بسم اللہ کہنے سے بہت پہلے سے شروع ہو جاتا ہے جس وقت ا ں وقت انہیں بھوک لگتی ہے جس وقت نرم نرم چپاتیوں اور سالن کا خیال انکے دل میں آتا ہے کیا اس وقت بھی انہیں اللہ تعالیٰ کا خیال آتا ہے۔ کیا جس وقت وہ اپنی ماؤں یا بہنوں یا بیٹیوں یا بیویوں سے کہتے ہیں کہ لاؤ کھانا کیا اس وقت بھی انہیں بشم اللہ یاد آتی ہے پھر کیا جس وقت کھانا سامنے آتا ہے اور اسے دیکھ کر بعض لوگوں کے مونہہ میں پانی بھر آتا۔ بھر آتا ہے کیا اس وقت انکے مونہہ سے سے بسم اللہ نکلتی ہے آدھا کھاتا تو بسم اللہ کہنے سے پہلے ہی کھا لیا جاتا ہے پھر درمیان میں بسم اللہ کہنے سے کیا فائدہ بسم الله میں تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ ہمارا ہر فعل اور ہر کام ا اہر فعل اور ہر کام اللہ تعالی کے کئے اور اس کے نام کے ساتھ ہو گا پس جب تک بسم الله ہماری زبانوں پر ہی نہیں بلکہ دماغوں اور دلوں پر بھی حاوی نہیں ہوتی اس وقت تک ہم اس اقرار کو پورا کرنے والے نہیں ٹھہرتے ۔ ہاں اگر ہمارے ارادوں اور ہماری خواہشوں پر ہمارے دلوں اور ہمارے دماغوں پر بسم الله غالب آجائے تب ہم کہیں گے کہ واقعہ میں ہم اپنا کام بسم اللہ سے شروع کرتے ہیں وگر نہ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو بسم الله کی حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ہو رسول کریم نے فرمایا ہے کہ کپڑا پہنے سے پہلے یا کوئی بھی کام کرنا ہوتو پہلے بسم الله کہ لوگ مگر دنیا میں کوئی ایسا کام نہیں جس کے لئے ایک عرصہ سے پہلے کوشش شروع نہیں کی