خطبات محمود (جلد 13) — Page 309
خطبات محمود ۳۰۹ 37 مومن کی عملی زندگی اور سورۃ فاتحہ (فرموده ۲۵- دسمبر ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ ایک ہندوؤں کا مذہبی راہنما پنجاب یا یوپی کے علاقہ سے آیا تو ایک بڑا ہندو افسر جو آپ سے ملنے والا تھا اس نے آکر بتایا کہ ہمارے ایک بزرگ آئے ہوئے ہیں۔جن سے ملنے کیوجہ سے روحانیت تازہ ہو جاتی ہے۔فرمانے لگے میں نے اس سے پوچھا کہ آخر روحانیت کے تازہ ہونے کا کیا سبب ہے اس نے جواب دیا کہ وہ ایسی محبت خدا تعالی سے کرتے ہیں کہ گھنٹوں دعاؤں میں لگے رہتے ہیں اور تھکتے نہیں۔چنانچہ اس نے ذکر کیا کہ ایک دن انہوں نے پانچ گھنٹے دعا میں صرف کئے تھے میں نے کہا دعاؤں کے گھنٹے تو قیمت نہیں رکھتے قیمت تو اس دعا کی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حضور کی جاتی ہے پس دیکھنا یہ چاہئے کہ وہ دعا کیا تھی اور کسی اخلاص سے کی گئی تھی۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ انہوں نے کیا کیا دعا ئیں کی تھیں تا مجھے معلوم ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کس قسم کا واسطہ اور تعلق رکھتے ہیں۔فرماتے وہ تو کچھ نہ بنا سکا لیکن میں نے اسے بتایا کہ ہمارے ہاں ایک دعا ہے انہوں نے تو نہ معلوم کیا کیا مانگا ہو گا نگر ہماری وہ دعا ایسی ہے جو ایک منٹ میں ادا ہو سکتی ہے۔تم غور کر کے دیکھو کہ کیا کوئی پانچ گھنٹے کی دعا اس ایک منٹ کی دعا کا مقابلہ کر سکتی ہے۔فرماتے تب میں نے اسے سورۃ فاتحہ لکھ کر دی اس کا ترجمہ اسے لکھایا اور اس کا مطلب اچھی طرح بتا دیا۔چند دن ہوئے میں ایک جرمن مصنف کی کتاب پڑھ رہا تھا وہ شخص علوم اسلامیہ کا بہترین ماہر سمجھا جاتا ہے اور مستشرقی لوگ یعنی مشرقی علوم کی دریافت اور و تجس کرنے والے اسے اپنا سردار سمجھتے ہیں اس کے نام کا میں صحیح تلفظ تو نہیں جانتا تحقیق و