خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 301

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء سے زیادہ لوگوں کو اپنے ہمراہ لائیں کیونکہ ہر سال مومن کے لئے پہلے سالوں سے زیادہ کامیابیاں اپنے ساتھ لایا کرتا ہے۔اس کے بعد میں قادیان کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان پر سب سے زیادہ ذمہ داریاں ہیں کیونکہ قرب کے مقام پر آنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔شبلی ایک مشہور بزرگ گذرے ہیں ان کی زندگی کا ایک مشہور واقعہ ہے وہ اپنے زمانہ میں بہت بڑے کامیاب گورنر اور بادشاہ وقت کے خاص مقربین میں سے تھے ایک دفعہ ایسی حالت میں جب کہ وہ بادشاہ کے دربار میں بیٹھے تھے ، ایک جرنیل بادشاہ کے سامنے پیش ہو ا جس نے بہت بڑی خدمات ملکی سرانجام دی تھیں۔بادشاہ نے خوش ہو کر اسے ایک بیش قیمت خلعت بطور انعام دیا اس کی بد قسمتی تھی کہ اسے اس روز کچھ نزلہ کی شکایت تھی اور وہ رومال لانا گھر سے بھول گیا تھا۔اتفاقاً اسے دربار میں چھینک آئی اور کچھ فضلہ اس کے ناک سے گرا اس نے گھبراہٹ میں ایک طرف مونہہ کر کے اسی خلعت کے ایک کو نہ سے ناک پونچھ لیا۔بادشاہ کی نظر اتفاقا اس پر جاپڑی اور اس نے جب دیکھا کہ جرنیل نے اس کی خلعت کو ایسے بے جاطور پر استعمال کیا ہے تو وہ غصہ سے بھر گیا اس نے حکم دیا کہ اس جرنیل۔اسے خلعت اتار لو اسے عہدہ سے معزول کر دو اور اسے اسی وقت دربار سے نکال دو تا آئندہ یہ میرے سامنے کبھی پیش نہ ہو۔اس کی تمام قربانیاں اور جاں نثاریاں اور اس کی تمام فدائیت بادشاہ کی نظر سے گر گئی مجھلا دی گئی ، مٹادی گئی ، نظر انداز کر دی گئی اور اس کا صرف ناک پونچھنا نہایت ہیبت ناک اور بھیانک صورت میں بادشاہ کے سامنے آگیا۔وہ جرنیل اس وقت ذلیل کیا گیا اس کا خلعت اتار لیا گیا۔جس وقت اسے دربار سے نکالا جا رہا تھا تو شیلی جو اس بادشاہ کی طرف سے ایک علاقہ کے گورنر تھے اور اپنے علاقہ کے خطرناک طور پر ظالم گورنر مشہور تھے ان کی چیخیں نکل گئیں اور وہ بے اختیار رونے لگ گئے پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا بادشاہ سلامت ! میرا استعفیٰ منظور ہو میں گورنری سے دستبردار ہو تا ہوں۔بادشاہ حیران رہ گیا اور اس نے کہا شبلی تجھے کیا ہو گیا، شیلی نے کہا بادشاہ سلامت آپ نے جو اس جرنیل کو خلعت دیا تھاوہ اس کی قربانیوں کے مقابلہ میں کیا حیثیت رکھتا تھا اس نے مدتوں اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اپنی بیوی کو بیوگی کے سرے پر اور اپنی بیٹی کو قیمی کے کنارے پر رکھا، اس نے دن اور رات کام کیا اپنے آرام اور آسائش کو قربان کیا مگر آج جب وہ آپ کے دربار میں پیش ہوا اور آپ نے اس کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے اسے خلعت دیا تو محض معمولی سی فرو گذاشت پر آپ نے اسے عہدہ سے