خطبات محمود (جلد 13) — Page 290
خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۱ء ہے کہ صبر سے کام لو دعا سے کام لو اور پھر محبت اور سلوک سے کام لو۔صبر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ایسا زمانہ ہو جس میں ایسے لوگ پائے جائیں جن پر ظلم ہو تا ہو کیونکہ صبر کے لئے ضروری ہے کہ ظالم موجود ہو اور دوسروں کے حق تلف کر رہا ہو اور صلوٰۃ کے معنے یہ ہیں کہ مومن باوجود ظلم کے شفقت اور محبت کا سلوک کرتا ہے نہ صرف یہ کہ وہ تعدی کو برداشت کرتا ہے بلکہ ظالم کے ساتھ رحمت اور حسن سلوک کا معاملہ کرتا ہے اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ئیں بھی کرتا رہتا ہے۔قرآن کریم کے الفاظ ذہ معانی ہوتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم میایی نے فرمایا ہے قرآن کریم کے سات بطن ہیں اور جب تک کوئی معنے اس کی دوسری تعلیم کے خلاف نہ ہوں سب جائز ہیں پس صلوٰۃ کے معنے دعا کے بھی ہیں اور رحمت و شفقت کے بھی۔آگے فرمایا وَ إِنَّهَا لَكَبيرة خدا تعالیٰ رسول کریم م ا م سے فرماتا ہے۔جب تم یہ کہو گے کہ فلموں پر صبر کرو اور پھر بھی دشمن سے رحم اور محبت سے پیش آؤ تو لوگ کہیں گے اس طرح ہم کچلے جائیں گے انہیں کہہ دو فرض کر لو کہ کچلے بھی گئے تو پھر کیا آخر تم نے خدا سے ملنا ہے اور تمہارا بدلہ خدا کے پاس ہے تمہارے اعمال ضائع نہیں ہوں گے اگر کوئی تمہیں مار بھی ڈالے تو بھی غم نہ کرو کیونکہ تم خدا سے ملنے والے ہو وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔پس ظلم کی حالت میں صبر کرو دعائیں کرو اور رحم و شفقت سے کام لو۔یہ بات فی الوقعہ بڑی مشکل ہے اور سوائے اس کے نہیں ہو سکتی کہ انسان حقیقی تذلل اختیار کرلے اور اس طرح کرنے والے وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوْا رَبِّهِمْ کے مصداق ہوں یعنے جنہیں لوگوں کی تکالیف سے گھبراہٹ نہیں ہوتی کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھتے ہیں وَانَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ان کے اعمال کے نتائج کا دن آنے والا ہے رجِعُونَ سے مراد آخری بدلہ ہے جو قیامت کے دن ملے گا اور مومن کو اس یقین ہوتا ہے۔پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر بن کر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی کامیاب انسان اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یا پکا دیندار بن جائے یا پکا دنیا دار - یہ طریق کامیابی کا نہیں کہ ایک ٹانگ دین کی طرف ہو اور دوسری دنیا کی طرف ہم خدا کی جماعت ہیں اس لئے خدا کی جماعتوں والا ہی رویہ اختیار کرنا چاہئے۔تم بہادری دکھاؤ مگر یاد رکھو بہادری کے یہ معنی نہیں کہ کسی کا سر پھوڑ دو بلکہ بہادری یہ ہے کہ اپنا سر صداقت کی خاطر اگر پھوڑا جائے تو پرواہ نہ کرو ایسی حالت میں بھی میدان سے نہ بھا گو بلکہ اپنے کام میں لگے رہو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بزدلی کی