خطبات محمود (جلد 13) — Page 281
خطبات محمود ۲۸۱ سال ۱۹۳۱ء دے۔ ہندوستان میں ایک مسلمان کے مقابلہ میں چار ہندو ہیں اور وہ ہر وقت متفقہ طور پر اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو نابود کر دیں ان حالات میں ضروری ہے کہ مسلمان اپنے اندر اتحاد پیدا کریں اور دشمنوں پر ثابت کر دیں کہ وہ اختلاف عقائد کے باوجود دشمنوں کے ہر حملہ کا اپنی متحدہ قوت سے مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں ابھی پچھلے دونوں صرف لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ پڑھنے پر چند مسلمان قید کر لئے گئے۔ گویا ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے کیوں بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول کریم میں علم کی رسالت کا اظہار کیا اور یہ صرف ایک ریاست کی حالت نہیں بلکہ ایسا زمانہ ہمارے سامنے آنے والا ہے کہ سارے ہندوستان کی یہی حالت ہو جائے۔ پس ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ابھی سے اپنے اندر قوت پیدا کرنا ہمارا مذہبی فرض ہے سیاسی نہیں۔ ان امور کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ان تھیں لاکھ آدمیوں کی امداد کے لئے جو ٹیموں کی طرح کمزور اور بے بس تھے اپنا ہاتھ بڑھایا اور بغیر اس خیال کے بڑھایا کہ اس میں احمدیت کی ترقی کا سوال ہو اور اللہ تعالی کا فضل ہے کہ اخباری لحاظ سے تو آج ہی ورنہ ہمیں تو دو دن پہلے سے معلوم تھا مہا راجہ صا راجہ صاحب نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ آئندہ ریاست کا قانون ایسی صورت میں منتقل کر دیا جائے گا کہ وہاں تقریریں کرنے کی اسی طرح اجازت ہوگی جس طرح گورنمنٹ انگریزی کے قانون میں ہے اسی طرح اخبارات کے نکالنے کی بھی وہاں ایسی ہی آزادی ہو گی جیسے ہندوستان میں، پھر انجمنیں بنانے کی بھی وہاں اسی طرح اجازت ہو گی جیسے یہاں اسی طرح وہ پرانی مساجد جو گورنمنٹ کے قبضہ میں ہیں اور جن میں آج تک شمالی وغیرہ ڈالی جاتی تھی مسلمانوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔ اسی طرح ایک کمیشن بٹھا دیا جائے گا جو قانون سے اس امتیاز کو جو پہلے ہندو اور مسلمانوں میں تھا دور کر دے گا مثلاً اس سے پیشتر یہ حالت تھی کہ اگر ایک مسلمان بکری پالے تو اس سے فی بکری پہلے سال دو روپے سات آنے دوسرے سال دو روپے دس آنے اور تیسرے سال دو روپے تیرہ آنے تیرہ آنے ٹیکس وصول کیا جاتا تھا لیکن اگر ہندو بکری پانے تو اس سے فی بکری صرف تین آنے ٹیکس لیا جاتا تھا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ بکروال قوم اس بات کے لئے تیار تھی کہ وہ ہندو ہو جائے اور اس طرح اس ٹیکس سے بچ سکے اور گو مہاراجہ صاحب کی نیت یہ نہ ہو کیونکہ وہ بذات خود نہایت شریف طبیعت رکھتے ہیں لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وزراء کی یہ نیت ضرور تھی کہ اس طرح مسلمانوں پر دباؤ ڈال کر