خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 282

خطبات محمود ۲۸۲ سال ۱۹۳۱ء انہیں ہندو بننے پر مجبور کیا جائے اور ریاست سے اسلام کو مٹا دیا جائے۔ایسے تمام قوانین کے متعلق اعلان کیا گیا ہے کہ آئندہ ان میں تغیر کیا جائے گا اور تمام قوانین انگریزی حکومت کے قوانین کی طرح بنا دئیے جائیں گے اور کوئی ایسا قانون برقرار نہیں رہیگا جس میں مسلمانوں اور ہندوؤں میں امتیاز روا رکھا گیا ہو۔اسی طرح یہ بھی فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو پولیس اور دوسرے افسروں نے دانستہ یا نادانستہ یا شرارت کے طور پر مارا پیٹا یا گولیوں کا نشانہ بنایا ہے ان کے متعلق تحقیقات کر کے اگر وہ مجروح ہیں تو ان کی امداد کی جائے اور اگر وہ مر چکے ہیں تو ان کے پسماندگان کو معقول معاوضہ دیا جائے جس سے وہ اپنی غربت اور مفلوک الحالی کی اصلاح کر سکیں۔اسی طرح یہ بھی فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ کمیشن تحقیقات کر کے رپورٹ کرے کہ کس حد تک حکومت کشمیر کے باشندوں کے صلاح و مشورے سے کی جایا کرے گویا جس طرح ہندوستان کا طرز حکومت ہے اسی طرح وہاں بھی انتخابات ہوا کریں گے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ وہاں کوئی قانون ایسا نہیں بن سکے گا جو مسلمانوں کے خلاف ہو بلکہ آئندہ ایسے ہی قانون نافذ ہوا کریں گے جو ساری رعایا کے لئے مفید اور نفع رساں ہوں۔اور چونکہ مسلمان وہاں پچانوے فیصدی ہیں اس لئے بہر حال ایسے تمام قوانین کا زیادہ تر فائدہ مسلمانوں کو ہی پہنچے گا۔ان کے علاوہ اور بہت سی باتیں ہیں جن تصفیہ کے لئے کمیش بٹھائے گئے ہیں۔ممکن ہے کمیش کی تحقیقات کے دوران میں ایسی کئی باتیں پیدا ہو جائیں جو ہمارے مدعا کے خلاف ہوں اس لئے گو ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا کام ختم ہو گیا مگر یہ ہم ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں پہلی فتح حاصل ہو گئی اور میں تو سمجھتا ہوں کہ یہ خالی ہماری ہی فتح نہیں بلکہ یہ خود مہاراجہ کی فتح ہے اس لئے کہ ایک بادشاہ کی سب سے بڑی فتح یہی ہوتی ہے کہ اس کی رعایا اس سے خوش ہو جائے۔خود سوچ لو کہ اگر ایک آدمی کے ارد گرد روپوں کی تھیلیاں رکھی ہوئی ہوں مگر اسے قولنج کا دورہ شروع ہو جائے تو اسے وہ روپوں کی تھیلیاں کیا فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔رعایا کی ناراضگی ایسی ہی ہے جیسے کسی حکمران کو رسل ہو جائے یا جیسے دق ہو جائے یا جیسے کو ڑھ ہو جائے یا جیسے قولنج ہو جائے ایسے شخص کو روپوں سے کیا لذت حاصل ہو سکتی ہے اور وہ جواہرات کی تھیلیوں سے کیا فائدہ حاصل کر سکتا ہے لیکن اگر اس کی ساری تھیلیاں اس سے لے لی جائیں اور اس کے گھر سے باہر پھینک دی جائیں مگر اس کی رسل دور ہو جائے اسکی قولنج جاتی رہے یا اس کا کوڑھ اس سے مفقود ہو جائے تو یقینا وہ آرام محسوس کرے گا اور کہے گا کہ خدا نے