خطبات محمود (جلد 13) — Page 267
۲۶۷ 31 خطبات محمود قربانی کا مطالبہ نہیں بلکہ بیج کو صحیح جگہ پر ڈالنے کا مشورہ ہے (فرموده ۲۳- اکتوبر ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اخلاص بھی ان چیزوں میں سے ہے جو دنیا میں انسان کی حیثیت کو بڑھاتی ہیں لیکن اسلام کی بنیاد عقل اخلاص اور عمل پر رکھی گئی ہے۔اسلام نے نہ تو اخلاص کی روح کو کھلا چھوڑ دیا ہے نہ صرف عقل کے دروازوں پر اکتفا کی ہے اور نہ ہی عمل کے ترک پر عقل و اخلاص کے نتائج مترتب ہو سکتے ہیں۔مجھے اس تمہید کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ آج مصافحہ کے لئے خاص انتظام کرنا پڑا۔میں نے دیکھا ہے بعض مواقع پر ضرورت محسوس ہونے کے باوجود بعض احباب قانون کی پابندی پسند نہیں کرتے۔جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے خلافت کے منصب پر فائز کیا ہے میں نے کبھی بھی دوستوں سے مصافحہ کرنے سے اجتناب یا ان کے ہجوم سے گھبراہٹ کا اظہار نہیں کیا۔باوجود اس کے کہ بعض دوستوں نے بعض مصالح کے ماتحت مشورہ بھی دیا کہ اس میں کمی ہوئی چاہئے مگر میں نے اس بات کو کبھی پسند نہیں کیا کیونکہ یہ اخلاص کی روح کو کچلنے والی بات ہے۔قرآن کریم میں خصوصیت کے ساتھ سورۃ لقمان میں ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اعلیٰ مقام پر فائز کرتا ہے تو اس کی دوسری علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کے ارد گرد ہجوم کرتے ہیں اور اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسے برانہ منائے بلکہ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملے لیکن بعض دفعہ ضرورت مجبور کر دیتی ہے کہ شاید آج کے انتظام کے متعلق میں کچھ نہ کہتا لیکن باہر سے آئے ہوئے ایک دوست نے مجھے ایک چٹھی لکھی ہے جسکی وجہ سے مجھے اس کے متعلق کچھ کہنا پڑا۔چونکہ انسان کو جو تکلیف ہوتی ہے اسے یا تو وہ خود محسوس کر سکتا