خطبات محمود (جلد 13) — Page 256
خطبات محمود ۲۵۶ سال ۱۹۳۱ء کیا ہم ایسے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں کو سچا اور خدا کو جھوٹا سمجھ لیں۔اگر حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی آنکھوں پر چور کے قول کو ترجیح دی تو کیا ہم خدا کی بات کو اپنی سمجھ پر ترجیح نہیں دے سکتے۔خدا تعالی فرماتا ہے الحمد للہ یعنی ہماری طرف سے جو بھی حالت پیدا کی جاتی ہے اس کا نتیجہ ہمیشہ حمد ہوتا ہے۔مثنوی رومی والے بھی فرماتے ہیں۔ہر بلا کیس قوم را حق داده اند زیر آن گنج کرم بنهاده اند کہ خدا کی طرف سے جو مصیبت کسی قوم پر آتی ہے اس کے نیچے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا خزانہ مخفی ہو تا ہے۔پس ہم تو ان ایام کو مصیبت کے ایام سمجھتے ہی نہیں مگر جو سمجھتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اللہ تعالٰی سے دعا کرے کہ وہ اسے استقلال اور استقامت عطا فرمائے اور جو اسے نعمت سمجھتا ہے ایسا شخص کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ خدا کے ہاتھ میں ہوتا اور عذاب خدا کی طرف سے دوسروں پر نازل ہوا کرتے ہیں اس کی طرف نہیں آیا کرتے۔(الفضل ۱۷ - ستمبر ۱۹۳۱ء) الفاتحة ٢