خطبات محمود (جلد 13) — Page 240
خطبات محمود ۲۳۰ سال ۱۹۳۱ء یوں نہیں بلکہ یوں ہے۔ یہ خواہش بھی اگر چہ بری نہیں مگر ہر جگہ اس کا استعمال برا ہوتا ہے۔ یہ خواہش ہر انسان میں خدا نے اس لئے پیدا کی ہے کہ تا بندے اور خدا کے درمیان کوئی دوسرا واسطہ نہ ہو ۔ وہ چاہتا ہے میں خود انسان کا معلم بنوں عَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ، اس نے سارے اسماء آدم کو خود سکھائے۔ پس وہ ذات جس نے آدم کو تمام اسماء سکھائے کوئی وجہ نہیں کہ آدم کی اولاد کو وہ نہ سکھائے۔ الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَعَهُ الْبَيَانَ ۔۔ خدا ہی انسان کو بیان سکھاتا ہے اور تمام تشریحات و توضیحات خدا ہی کی طرف سے آتی اور وہی انسان کی رہبری کرتی ہیں۔ پس اپنی معرفت کا علم اللہ تعالی خود سکھاتا ہے۔ چناچہ ہر چیز کے اندر اس نے اپنے علوم نقش کر دیئے ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے الَّذی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ سے کوئی چیز ایسی نہیں جس کے اندر اس نے اپنے روحانی علوم نقش نہ کر دیئے ہوں۔ کیونکہ وہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ مجھے خدا تک فلاں بندے نے پہنچایا۔ پس چونکہ یہ بات خدا برداشت نہیں کرتا اس لئے ہر انسان کی طرف وہ اپنا ہاتھ خود بڑھاتا ہے اور اسے خود اپنے حضور درجات عطا کرتا ہے۔ پس انسان کو دوسرے انسان سے مستغنی اور آزاد کرنے کے لئے ہر انسان کے دل میں اللہ تعالی نے یہ خواہش رکھی ہے کہ وہ کہتا ہے مجھے دوسروں سے سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ میں خود براہ راست سیکھوں گا مگر بعض لوگ اس کے غلط معنے سمجھ لیتے ہیں اور وہ بغیر سیکھنے کے اپنے آپ کو سیکھا ہوا سمجھ لیتے ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو سیکھا ہوا سمجھ لینا صحیح نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کو یہ تو حق دیا ہے کہ وہ سیکھ کر اپنے آپ کو دوسرے سے مستغنی سمجھے مگر یہ حق نہیں دیا کہ وہ بغیر سیکھے اپنے آپ کو سیکھا ہوا سمجھے ۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم کے جس چیز کا تمہیں علم نہیں وہ بات مت کہ کہو ۔ مگر باوجود اس کے کہ دنیا کے ابتدائی دور میں جو رسول آیا اس کے ذریعہ اللہ تعالی نے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کا حکم دیا یعنی حضرت نوح علیہ السلام کے ذریعے فرمایا کہ جس بات کا علم نہ ہو مت کہو ۔ مگر اب تک انسان نے اس عادت کو نہیں بدلا ۔ اب بھی وہ یہی چاہتا ہے کہ دوسرے کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو تحقیر سے نظر انداز کردوں۔ پس نقص یہ ہے کہ انسان راہنمائی کا محتاج ہوتے ہوئے دوسروں کی راہنمائی قبول نہیں کرتے ۔ جب رسول کریم اللہ کی معرفت الله تعالی نے فرمایا میرا بندہ ترقی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ میں اس کا ہاتھ اور پاؤں بن جاتا ہوں تو اس کا مطلب یہی تھا کہ میں اس بندے کا ہاتھ اپنے دوسرے بندوں کی طرف بڑھاتا