خطبات محمود (جلد 13) — Page 228
خطبات محمود PPA سال ۱۹۳۱ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا تھا تو سوچ سمجھ کرہی مانا تھا اب استخارہ کیسا۔گو یہ ان کی غلطی ہے جیسا کہ میں آگے چل کر بتاؤں گا مگر یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ جماعت کا کثیر حصہ ایسے یقین اور وثوق کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لایا ہے کہ وہ مباہلہ کو ایسا سمجھتے ہیں کہ گویا ایک بہترین دعوت ہے جو ان کے سامنے آئی۔اور ایک بہترین ترقی کا موقع ہے جو انہیں ملا ہے۔آج ہی ایک ایسے نوجوان کا خط آیا ہے جس سے بہت سے قصور اور غلطیاں سرزد ہوئی تھیں اور ایک زمانہ میں تو ہم سمجھتے تھے شاید وہ جماعت سے علیحدہ ہو چکا ہے اس نے لکھا ہے بے شک مجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں مگر مجھے اس مباہلہ میں ضرور شامل کیا جائے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں اپنی اصلاح کروں گا اور خواہش رکھتا ہوں کہ سال بھر قادیان میں ہی رہوں اور اپنی اصلاح کروں۔غرض اس قسم کے خطوط آرہے ہیں جن کے پڑھنے سے حیرت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دلوں پر کیسا تصرف کیا ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ ان میں سے بعض خطوط کو شائع کیا جائے تا دشمنوں کو معلوم ہو کہ ہماری جماعت کتنا اخلاص اور یقین رکھتی ہے۔یہ ایمان اور وثوق ہے جو خود اپنی ذات میں سلسلہ کی صداقت کا نشان ہے وگرنہ کو نسا انسان دنیا میں ایسا ہو سکتا ہے جو دلوں کو یقین اور وثوق سے بھر دے۔یہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہوتی ہے جو دلوں کو طاقت دیتی ہے اور ان میں نور ایمان بھر دیتی ہے دوسرے لوگوں کی ایسی حالت نہیں ہوتی۔میں نے کئی بار سنایا ہے۔ایک دفعہ جب میں شملہ گیا تو وہاں کی مقامی آریہ سماج کے سیکرٹری صاحب جو گریجویٹ تھے مجھ سے ملنے آئے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے حضرت مرزا صاحب سے آپ کو کیا ملا۔میں نے کہا مجھے آپ سے یقین اور اطمینان ملا۔کہنے لگے یہ تو ہر شخص کو حاصل ہوتا ہے میں نے کہا ایسا یقین جس کی وجہ سے انسان اپنی جان دیدے میں اس کا نام یقین نہیں رکھتا۔کئی جگہ ایسا ہوا ہے کہ عیسائی مشنری مارے گئے مگر انہوں نے اپنے مذہب کو نہیں چھوڑا۔اگر ایک جگہ دس عیسائی مارے گئے تو ان کی جگہ ہیں اور چلے گئے۔میں اس کا نام یقین نہیں رکھتا بلکہ میں یقین کا معیار ہی جدا گانہ رکھتا ہوں اور وہ یہ کہ مجھے قرآن کے متعلق یقین ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور میں ہر جگہ کہنے کو تیار ہوں کہ اے خدا اگر یہ تیرا کلام نہیں اور اگر میں اسے تیرا کلام کہنے میں باطل پر ہوں تو تیری لعنت مجھ پر اور میرے بیوی بچوں پر پڑے اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی اگر آپ کو بھی دیدوں پر ایسا ہی یقین ہے جیسا مجھے قرآن پر تو آپ بھی اسی طرح کہیں۔وہ کہنے لگے آپ میرے بیوی بچوں کا کیوں ذکر کرتے ہیں صرف میری ذات