خطبات محمود (جلد 13) — Page 217
خطبات محمود ۲۱۷ 24 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز تحریر کی تقلید کرو (فرموده ۱۰- جولائی ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود سے دنیا میں جو بہت سی برکات ظاہر ہوتی ہیں ان میں سے ایک بڑی برکت آپ کا طرز تحریر بھی ہے۔ جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے الفاظ جو ان کے حواریوں وں نے نے جمع جمع کئے ہیں یا کسی وقت بھی جمع ہوئے ان سے آپ کا خاص طرز انشاء ظاہر ہوتا ہے اور بڑے بڑے ماہرین تحریر اس کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا طرز تحریر بھی بالکل جدا گانہ ہے۔ اور اس کے اندر اس قسم کی روانی زور اور سلاست پائی جاتی ہے کہ باوجود سادہ الفاظ کے باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جن سے عام طور پر دنیا ناواقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کام مبالغہ ، جھوٹ اور نمائشی آرائش سے خالی ہوتا ہے اس کے اندر ایک ایسا جذب اور کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جارہی ہیں۔ اور جس طرح جب ایک زمیندار گھاس والی زمین پر ہل چلانے کے بعد سہاگہ پھیرتا ہے تو سہاگہ کے ارد گرد گھاس پیٹتا جاتا ہے اسی طرح معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر انسانوں کے قلوب کو اپنے ساتھ لیٹتی جارہی ہے۔ اور یہ انتہاء درجہ کی ناشکری اور بے قدری ہو گی اگر ہم اس عظیم الشان طرز تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طرز تحریر کو اس کے مطابق نہ بنائیں۔ میں تو عام طور پر دیکھتا ہوں کہ دانستہ یا نادانستہ طور پر دنیا اس طرز تحریر کو قبول کرتی جا رہی ہے۔ جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ