خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 17

سال ۱۹۳۱ء خطبات محمود وہ باقی دنیا کے حالات اور واقعات سے مستغنی ہے۔اگر دس ہزار میل دور سمندر کا اثر اس پر اسکتا ہے اگر دور دراز کے جنگلوں سے وہ متاثر ہو سکتا ہے جہاں ٹڈی پل کر آتی ہے تو وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ دنیا میں خواہ کچھ ہو اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ہمارے ملک میں پچاس فیصدی سے زائد زمیندار ایسے ہونگے کہ جنہوں نے بلوچستان کا نام بھی نہ سنا ہو گا مگر وہاں کے جنگلوں میں ٹڈی پلتی ہے اور وہاں سے چل کر ان کے کھیتوں کو برباد کر جاتی ہے۔پس اگر ایک زمیندار بلوچستان کے جنگلوں سے بھی مامون نہیں اور اگر وہ خلیج بنگال یا بحیرہ عرب کے تغیرات سے بھی مامون نہیں تو پھر کوئی انسان کس طرح خیال کر سکتا ہے کہ ہمسایہ اور اپنے گاؤں یا شہر کے لوگوں کے اخلاق اور عادات کا اس پر کوئی اثر نہ ہو گا۔ہزاروں میل سے ریت کے ذرات یا پانی آکر جب ایک زمیندار کے کھیت کو تہ و بالا اور اس کی محنت کو برباد کر سکتے ہیں تو انسان کے ہمسایہ میں جو طوفان بے تمیزی یا گناہوں کی لر پیدا ہو رہی ہو اس سے وہ کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے مگر انسان اپنی غفلت کی وجہ سے اسی بات کو دیکھتا ہے جو اس پر وارد ہو کر اسے جگا دیتی ہے۔جس وقت ٹڈی آتی ہے اس وقت خیال کرتا ہے کہ کہیں پاس سے ہی آگئی ہوگی اور اسے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ کتنی دور سے آئی ہے۔بادل برستا ہے تو وہ خیال کرنا ہے چالیس پچاس میل سے آیا ہو گا۔اسے یہ خیال بھی نہیں آتا کہ یہ کئی ہزار میل سے چلا آیا ہے۔اور پھر بعض تو یہ خیال کرتے ہوں گے کہ شاید کوئی ایسی چیز ہے جس سے پانی گر پڑتا ہے وہ یہ نہیں جانتے کہ ایسے حالات کے ماتحت جو انسان کے قبضہ سے باہر ہیں سمندر کے ابخرات بعض خاص ہواؤں کے ذریعہ اڑ کر یہاں آتے اور برستے ہیں۔غرض اگر انسان کی نظر جاتی ہے تو نہایت محدود دائرہ تک۔اور کئی باتوں کی طرف تو اس کی نظر جاتی ہی نہیں۔حالانکہ جس طرح ہزاروں میل پر ان سمندروں اور میدانوں سے تباہی کے سامان پیدا ہوتے ہیں اسی طرح قریب اور دور کے انسان سے بھی دوسرے انسان کی تباہی کے سامان پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ایک زمانہ تھا کہ ہندوستان یورپ کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔عرب بھی اگر چہ واقف تو تھے مگر بھلا بیٹھے تھے۔اپنے اپنے طریق اور رسومات کو لے کر سب اپنی اپنی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ہمیں ان طریقوں سے کون ہٹا سکتا ہے۔آج سے پچاس سال قبل اگر ہندوستان کی اعلیٰ خاندان کی ایک مسلمان عورت کو کہا جاتا کہ برقعہ پہن کر سٹیشن پر چلی جاؤ تو وہ کبھی یہ بات نہ مان سکتی تھی۔وہ ڈولی میں جاتی پھر پردہ تان کر گاڑی میں اسے داخل کیا جاتا۔جس کی