خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 16

خطبات محمود 14 3 دہریت اور الحاد کی رو کو روکو (فرموده ۱۶ جنوری ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایسے رنگ میں پیدا کیا ہے کہ وہ ایک دو سرے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ انسان کیا تمام مخلوق کا تعلق آپس میں اس رنگ کا ہے کہ سب کی سب چیزیں ایک دوسرے پر سہارا لئے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کی احتیاج رکھتی ہیں۔یہ احتیاج اور ایک دوسرے پر سہار ا لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کو کوئی تکمیل حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے گردو پیش کے حالات بھی درست نہ ہو جائیں۔ایک کسان ملک کے دو سرے حالات سے ناواقف ہوتے ہوئے اپنے علاقہ میں ایک کھیت ہو تا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اس نے وہ سارے سامان جو کھیت کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں جمع کرلئے ہیں لیکن یکدم بارش آتی ہے ایسی بارش جو یا تو مٹی کو ایسا سخت کر دیتی ہے کہ اس سے بیج نکل ہی نہیں سکتا یا اگر نکلا ہوا ہو تا ہے تو کھیت میں پانی کھڑا ہو جانے کی وجہ سے گل سڑ جاتا ہے یا ایسی آندھی آتی ہے جس سے فصل گر جاتی ہے۔زمیندار غریب نے جتنے سامان اس کے اختیار میں تھے جمع کر لئے مگر دور دراز مقامات پر ہونے والے تغیرات جن میں سے کوئی تو بحیرہ عرب میں ہوا اور کوئی خلیج بنگال میں ان میں اس کا کیا دخل تھا۔دنیا کے دور کناروں پر دو چار پانچ بلکہ دس ہزار میل کے فاصلے پر بعض سامان ایسے پیدا ہوئے کہ سمندر سے زیادہ ابخرات اٹھے جن سے بادل بنے اور انہیں ہوا ئیں اس کے ملک میں لے آئیں۔اور یہ جو ان علاقوں کے نام سے بھی واقف نہیں اس کی تمام سال کی محنت برباد ہو گئی۔ان حالات میں ایک عظمند زمیندار کسی طرح بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ