خطبات محمود (جلد 13) — Page 196
خطبات محمود 194 سال ۲۱۹۳۱ یہی وجہ ہے کہ ۹۵ فیصدی مسلمان جس سکیم کے سخت مخالف ہیں وہ اسی کی تائید کرتے اور ملک میں غداری کرتے پھرتے ہیں۔یہ غداری تو پیشاب سے بھی بد تر ہے کیونکہ پیشاب کا پینا تو پھر بھی بیماری میں جائز ہو سکتا ہے۔فقہاء نے ضرور تا شراب کو بھی جائز رکھا ہے۔جب ضرور تا شراب پینا جائز ہو سکتا ہے تو پیشاب کا استعمال بھی کسی وقت جائز سمجھا جا سکتا ہے مگر قومی غداری دھوکا اور غریب تو کبھی اور کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوتا۔پس وہ لوگ جو دھوکا اور فریب کے عادی ہیں وہ گائے کا پیشاب اگر ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ بھی پی لیں تو ان کے متعلق تعجب نہیں ہو سکتا اور منہ سے تو شاید اب بھی وہ گاندھی جی سے یہی کہتے ہوں کہ حضور ہم گائے کا پیشاب کیا پاخانہ بھی کھانے کے لئے تیار ہیں کیونکہ ان کا مقصد محض گاندھی جی کی خوشنودی ہے۔یا د رکھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابل میں گاندھی وغیرہ کی کچھ بھی حقیقت نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا کی طرف سے مامور ہو کر آئے پس جو بھی آپ کے مقابل پر اٹھے گا خواہ وہ گاندھی ہویا کوئی اور اللہ تعالی اسے یوں کچل ڈالے گا جس طرح ایک جوں مار دی جاتی ہے۔نادان کہتے ہیں کہ گاندھی جی نے انگریزوں کو ہرا دیا۔اول تو یہ بات ہی غلط ہے لیکن پھر بھی اگر گاندھی جی انگریز کیا ساری دنیا کو بھی ہرا دیں تب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے مقابل میں اس کی کچھ حیثیت نہیں کیونکہ گاندھی جی کی فتوحات لوگوں کو خوش کر کر کے ہوئیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کو ناراض کر کے جیتا۔یہاں تک کہ دنیا کا ایک معتدبہ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں آگرا اور ابھی کیا ہے دنیا دیکھے گی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کس طرح مخلوق اکٹھی ہوتی ہے اور ایسا ہو گا کہ ان مخالفین کی اولادیں یا تو ان کی طرف اپنے آپ کو منسوب ہی نہیں کریں گی یا پھر ان پر لعنتیں بھیجیں گی۔گاندھی جی اور ان کی تحریکیں ہستی ہی کیا رکھتی ہیں اس خدا کے جرنیل کے مقابل میں جو دنیا کا نجات دہندہ بن کر آیا۔پھر گاندھی جی تو اسلامی تعلیم پر بھی اعتراض کرتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ میرا عقیدہ ہے کہ دفاع میں بھی جنگ جائز نہیں۔اس طرح کیا وہ رسول کریم میں اللہ پر یہ اعتراض نہیں کرتے کہ گویا نعوذُ بِاللہ آپ نے اندفاعی جنگیں کر کے برا کام کیا۔پس ایسے شخص کی تعریف کرنا در اصل رسول کریم میر کی علانیہ جتنک کرنا ہے مگر مونہہ سے مسلمان کہلاتے ہوئے اس شخص نے گاندھی جی کی تعریف کی جو مسلمانوں کے کھلے دشمن ہیں