خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 192

خطبات محمود ۱۹۲ سال ۱۹۳۱ء ہیں یہ تعداد بالکل غلط ہے۔ضلع ہوشیار پور کے ایک گاؤں میں ۲۳۴ مرد لکھے گئے اور صرف ۲۳ عورتیں حالانکہ جس قدر مرد ہوں عموماً اسی قدر عورتیں بھی ہوا کرتی ہیں مگر لکھی گئیں صرف ۲۳- اسی طرح بٹالہ کی تحصیل میں نہایت غلط مردم شماری کی گئی۔قادیان میں ہی باون شو کے قریب احمدی ہیں اور اگر تنگل ، نواں پنڈ ٹھیکری والہ اور دوسرے گاؤں جو قادیان کے اردگرد ہیں ، ملالئے جائیں تو اسی جگہ کی جماعت ساڑھے چھ ہزار کے قریب بن جاتی ہے۔مگر بٹالہ کی ساری تحصیل کے گل احمدی آٹھ ہزار لکھے گئے حالانکہ بٹالہ سے پرے گاؤں کے گاؤں ایسے ہیں جہاں احمدیوں کی بہت کثرت ہے۔مثلا د ہرم کوٹ ، ونجوان اٹھوال اور شکار بھی بٹالہ میں ہی ہیں۔پھر پاس ہی چار پانچ میل کے فاصلہ پر سیکھواں اور تلونڈی جھنگاں ہے۔ان تمام گاؤں کے احمدیوں کی مجموعی تعداد بھی سات آٹھ ہزار سے کم نہیں۔اور اس لحاظ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تحصیل بٹالہ کی کل احمدی آبادی کتنی ہوگی۔مگر قادیان کے ارد گرد جہاں ہم نے کوشش کی تھی کہ مردم شماری صحیح لکھی جائے وہاں بھی بعض جگہ اس سے بھی کم مردم شماری ہوئی۔پس اس قسم کی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سرکاری مردم شماری پر اعتبار تو نہیں کیا جا سکتا مگر پھر بھی دنیا اسی سے اندازہ لگاتی ہے۔لیکن اگر ہم اپنی تعداد مردم شماری والی تعداد سے بڑھا بھی لیں کیونکہ ہماری تعداد واقعی پنجاب میں اس سے بہت زیادہ ہے تو ان کمزور احمدیوں کو چھوڑ کر جو اپنا نام ظاہر نہیں کرتے پنجاب کے معروف احمدی دو لاکھ کے قریب بن جائیں گے۔پھر بھی دو لاکھ اڑھائی کروڑ کے مقابل میں کیا حقیقت رکھتا ہے۔بنوا کے مقابلہ میں ایک بھی احمدی نہیں بنتا۔مگر کیا وجہ ہے کہ آپ لوگوں کا اس قدر رعب ہے اور کیوں دنیا خیال کرتی ہے کہ آپ لوگوں میں غیر معمولی طاقت اور قوت پائی جاتی ہے۔اس کی وجہ محض اطاعت اور فرمانبرداری ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں پچپن ہزار نہ سہی اگر احمدیوں کو پچیس ہزار بھی سمجھ لو تب بھی ان کا مقابلہ کرنا آسان کام نہیں کیونکہ یہ تمام لوگ ایک ہاتھ پر جمع ہیں اور جہاں بھی انہیں اشارہ ہو ٹوٹ پڑنے کے لئے تیار ہیں اور اگر پچیس ہزار بھی مرنے مارنے پر تیار ہو جائیں تو انہیں تھوڑا خیال کرنا سخت غلطی ہوتی ہے۔پس یاد رکھیں کہ آپ لوگوں کا تمام تر رعب اور وہ عزت اور وقار جو سلسلہ کو حاصل ہے محض اطاعت کی وجہ سے ہے وگر نہ کثرت تعداد کے لحاظ سے مسلمان کم نہیں مگر وہ پراگندہ ہیں اس وجہ سے انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔اگر کثرت ہی کی وجہ سے کوئی قوم معزز ہو سکتی تو مسلمان آج کیوں ذلیل ہوتے۔مگر ان کی تو کوئی عزت نہیں لیکن آپ لوگوں کو ایک نمایاں درجہ حاصل ہے