خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 193

خطبات محمود ۱۹۳ سال ۱۹۳۱ء اور ایسی طاقت آپ لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے جسے دوسرے لوگ محسوس کرتے ہیں۔یہ مقام محض اطاعت کی وجہ سے آپ لوگوں کو حاصل ہوا ہے۔اس میدان میں اپنے آپ کو فیل کر دو پھر کوئی نہیں جو تمہاری طاقت کا قائل ہو اور تمہارے رُعب سے خوف زدہ ہو۔پس اپنے ہاتھ سے اپنی ذلت کرانا کوئی معقول بات نہیں ہو سکتی۔میں اس کی تحقیقات کراؤں گا اور کمیشن بٹھا کر اس بات کا فیصلہ کراؤں گا کہ آیا اس ذمہ دار افسر نے صحیح طور پر تمام لوگوں کو اطلاع دیدی تھی یا نہیں اور اگر دے دی تھی تو وہ لوگ جو باوجود اطلاع کے سونے ہاتھ میں لئے رہے ان کے ناموں کا پتہ لگا کر تنبیہ کی جائے گی بلکہ تنبیہ کی بھی ضرورت نہیں۔ان کا فعل ایسا ہو گا جو خود انہیں شرمندہ اور نادم کرنے کے لئے کافی ہو گا۔اور اگر یہ ثابت ہوا کہ اس افسر نے جماعت کو اس بات سے پورے طور پر آگاہ نہیں کیا تھا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی کیونکہ وہ وقار جو ہماری جماعت کا تمام لوگوں کی نظروں میں تھا اس کو اس نے صدمہ پہنچایا۔مخالف لوگ ہمارے ایمان کے تو قائل ہی نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو وہ جھوٹا سمجھتے ہیں صرف ایک ہی چیز ہے جس کے وہ قائل ہیں اور جس کا ان کے دلوں پر گہرا اثر ہے اور وہ سلسلہ کا وقار اور اس کی شان اور عظمت ہے۔اس صورت میں گویا وہ ایک ہی چیز جس کا مخالفین کے قلوب پر اثر ہے اس افسر نے اپنی غفلت اور کو تاہی کی وجہ سے اسے نقصان پہنچایا۔پس اس غفلت کے ثابت ہو جانے پر اس افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔لیکن جو ہوا سو ہوا آئندہ کے لئے میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر وہ کہیں جائیں تو اگر خلیفہ وقت ساتھ ہو تو اس کی ورنہ جو بھی افسر ہو اس کی ایسی اطاعت اور فرمانبرداری کریں کہ دشمن خواہ وہ کس قدر نابینا ہی ہو آپ لوگوں کی اطاعت اور فرمانبرداری کو دیکھ کر اقرار کرے کہ اس جماعت کو اطاعت میں جو درجہ حاصل ہے اس کی دنیا میں کہیں نظیر نہیں ملتی۔رسول کریم میں اور کے زمانہ میں اطاعت پر اس قدر زور دیا جاتا تھا کہ لوگ بعض دفعہ اطاعت میں غلو کر جاتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم میم کے زمانہ میں ایک شخص کو امیر بنا کر بھیجا گیا کسی مقام پر صحابہ اور اس امیر میں اختلاف ہو گیا۔امیر کہنے لگا تم پر میری یہاں تک اطاعت فرض ہے کہ اگر میں آگ جلا کر تم سب کو حکم دوں کہ اس میں کود پڑو تو تمہیں کو د جانا ہو گا۔اس پر بعض صحابہ نے کہا یہ معصیت ہے کیونکہ جب شریعت کہتی ہے لا تلقوا بِأَيْدِيكُمْ إلى التهلكة کہ اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔تو آپ کے حکم پر ہم آگ میں کس طرح کو دسکتے ہیں۔مگر بعض نے کہا بے شک ہم آگ میں بھی کود پڑیں گے کیونکہ رسول کریم