خطبات محمود (جلد 13) — Page 191
خطبات محمود 191 سال ۱۹۳۱ء جماعت کی طرف سے ایک معاہدہ کر کے آتا ہے تو وہ اپنی ذات کی طرف سے معاہدہ نہیں کرتا بلکہ جماعت کی طرف سے کرتا ہے اور احمد یہ جماعت کا لفظ ایسا بے قیمت نہیں کہ اس نام پر جب کوئی معاہدہ کیا جائے تو اسے جب چاہے تو ڑ دیا جائے۔ پس اگر ذمہ دار افسر نے جماعت کے سب لوگوں کو آگاہ نہیں کیا اور اپنے نمائندے ایسے مقرر نہ کئے جنہوں نے تمام جگہوں میں گھوم گھوم کر لوگوں کو اس معاہدہ سے آگاہ کیا ہو تو اس نے خطرناک جرم کیا اور جماعت کی بدنامی کا موجب بنا۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اس افسر نے تو اپنے عہد کو نباہ دیا اور یہ اعلان کروا دیا ہو کہ کوئی شخص اپنے ہاتھ میں سونٹانہ رکھے اور سب کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہو کہ ہاتھوں میں سونٹار کھنے کی اجازت نہیں مگر پھر بھی بعض افراد نے اس حکم کی تعمیل نہ کی۔ اگر واقعی ایسا ہی کیا گیا اور اس ذمہ دار افسر نے تمام افراد کو اطلاع دے دی مگر پھر بھی بعض افراد نے خواہ وہ ایک فیصدی ہی کیوں نہ ہوں اس حکم کی تعمیل نہیں کی تو یہ بھی افسوسناک بات ہے۔ کیونکہ خواہ قلیل حصہ ہی اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا تب بھی اس نے رسول کریم میم کے اس حکم کی نافرمانی کی جس میں آپ نے فرمایا ہے مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَطَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ پس یہ دو صورتیں ہیں جن میں سے کوئی نہ کوئی پیش آئی تیسری کوئی صورت میری سمجھ میں نہیں آتی۔ انہی دو صورتوں میں سے ایک نہ ایک کو درست اور صحیح تسلیم کرنا پڑے گا۔ یا تو یہ مانا پڑے گا کہ اس افسر نے جماعت کو پورے طور پر اطلاع نہیں دی اور اس صورت میں قصور اس کا اپنا تھا جماعت کا نہیں۔ اوریا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس نے اعلان تو کر دیا مگر جماعت کے بعض لوگوں نے خواہ وہ کتنے ہی قلیل کیوں نہ ہوں اس حکم کی اطاعت نہیں کی اور یہ دونوں صورتیں جماعت کی پیشانی پر بد نما دھبہ ہیں اور دشمنوں کو حرف گیری کا موقع دینا ہے۔ آپ لوگوں کو یا د رکھنا چاہئے کہ آپ اپنی تعداد کے لحاظ سے مخالفین کے مقابل میں آئے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ پنجاب میں ہماری جماعت سب سے زیادہ ہے اور اگرچہ گورنمنٹ کی مردم شماری ہماری جماعت کے متعلق ایسی نہیں جس پر اعتبار کیا جاسکے مگر بہر حال گذشته مردم شماری میں ہماری تعداد پنجاب میں ۲۸ ہزار تھی اور اس دفعہ پنجاب میں ۵۵ ہزار احمدی قرار دیئے گئے۔ سرکاری لحاظ سے ہماری تعداد گذشتہ مردم شماری کی نسبت دگنی ثابت ہو گئی۔ مگر ہم جانتے