خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 181

خطبات محمود IAI سال ۱۹۳۱ء کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہونی چاہئے جو تمہیں ڈرا سکے۔خواہ تمہارے مقابل پر کوئی دشمن ہو یا نہ ہو۔تمہارے دل میں یہ احساس ہونا چاہئے کہ اگر قطار میں باندھ کر تمہیں کھڑا کر دیا جائے اور خدا کے لئے تمہیں ذبح ہونا پڑے تو تیار ہو جاؤ اور اپنے دل میں ذرا بھی ملال پیدا نہ کرو۔یہ مت خیال کرو کہ اس وقت کوئی دشمن نہیں جس سے ہمارا مقابلہ ہو کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ کب ایسے مقابلہ کی ضرورت پیش آجائے۔مومن بے شک امن پسند ہوتا ہے اور کوئی ایسا موقع پیدا نہیں ہونے دیتا جس کی وجہ سے مصائب میں پڑے۔لیکن دل میں یہ ضرور احساس ہونا چاہئے کہ اگر خدا کے لئے جیل جانا پڑے تو بخوشی جیلوں میں جائیں گے۔میں مسلمانوں کو دیکھتا ہوں کہ جب بھی جیل میں جانے کا سوال ان کے سامنے آجاتا ہے معا ان کے سارے جوش ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔یوں تو وہ لٹھ مار کر دو سروں کا سر پھوڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے مگر جیل کا نام سن کر گھبرا جائیں گے۔لیکن ایک سکھ قوم ہے جو جیل کا ذرہ بھی ڈر محسوس نہیں کرتی اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب سکھ جیل خانوں سے نہیں بلکہ جیل خانے سکھوں سے ڈرنے لگے ہیں کیونکہ گورنمنٹ ڈرتی ہے کہ اگر اتنے آدمیوں کو جیل خانے میں بند کر دیا تو انہیں کھلائیں گے کہاں سے۔ایک آدمی پر پچاس ساٹھ روپے ماہوار بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہی خرچ آتا ہے۔کھانے اور کپڑے کے اخراجات۔رہائش کا انتظام اور نگرانی پر جو خرچ ہوتا ہے اگر سب کا اندازہ لگایا جائے تو پچاس ساٹھ روپے فی آدمی پڑتا ہے۔اور اگر دس ہزار آدمی قید خانے میں ہوں اور پانچ لاکھ ہی ماہوار اخراجات کی اوسط ہو تو ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔اور اگر ایک لاکھ قیدی ہوں تو پچاس لاکھ ماہوار۔اور چھ کروڑ روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے۔اگر اس قدر آدمی گورنمنٹ قید کر لے تو باقی محکموں کو کس طرح چلائے اور لوگوں کو تنخواہیں کہاں سے دے۔اصل بات یہ ہے کہ جب سکھوں نے کہہ دیا کہ ہم جیل خانے جاتے ہیں ہمیں قید کا کچھ فکر نہیں تو گو ر نمنٹ کو اپنی فکر پڑ گئی۔کیونکہ تھوڑے لوگوں کو تو وہ قید کر سکتی ہے مگر سارے کے سارے جب قید ہونے کے لئے تیار ہو جائیں تو انہیں کہاں قید کر سکتی ہے۔اسی لئے گورنمنٹ نے گزشتہ ایام میں یہ طریق رکھا کہ وہ سکھوں کو ریل میں بیٹھا کر لے جاتی اور انہیں دور دراز جگہوں پر چھوڑ آتی۔کیونکہ وہ سمجھتی تھی انہیں قید کرنا اپنے سر مصیبت لینا ہے۔تو سکھوں نے قید سے ڈرنا چھوڑ دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب جیل خانے ان سے ڈرنے لگے ہیں۔پہلے تو گونمنٹ دھمکی دیتی تھی کہ اگر تم فلاں بات سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں قید کر دیں گے۔اور یا اب یہ حالت ہے کہ پبلک گورنمنٹ سے کہتی