خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 12

محمود ۱۲ سال ۱۹۳۱ء میں سے بہتر بلکہ بہترین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ مازوہ چاہتے ہو جو لنگڑی ہو۔یاد رکھو کہ سورج کو جگنو د یکھنے والے ہزاروں آدمی ایک ایسے شخص کے مقابلہ میں جو سورج کو اپنی اصلی شان میں دیکھتا ہے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ایک زمانہ تھا جب یہ لوگ کہا کرتے تھے کہ نانوے فیصدی احمدی ہمارے ساتھ ہیں پھر خدا تعالیٰ کا فضل ہم پر ہوا اس نے ہمیں زیادہ کر دیا تو اب وہی لوگ جو کبھی اپنی کثرت کو نہایت فخر سے پیش کیا کرتے تھے کہہ رہے ہیں کہ اَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ" کثرت فاسقوں کی ہوتی ہے۔شیعہ کہا کرتے ہیں کہ مسلمان صرف ڈھائی ہی تھے حضرت مسیح موعود ان کے مقابل میں یہ دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ ایسا عقیدہ رکھنے سے رسول کریم میں اور ولیم کی قوت قدسیہ پر حرف آتا ہے لیکن یہی بات آج وہ لوگ کہہ رہے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھنے کے مدعی ہیں۔میں نے کل ہی پیغام کا ایک پرچہ پڑھا جس میں لکھا ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا ایک کثیر حصہ گمراہ ہو گیا ہے۔بفرض محال اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی نہ مانا جائے صرف مسیح موعود مہدی اور مجددہی مانا جائے تو کیا یہ کہنے سے کہ آپ کی جماعت کے اکثر افراد گمراہ ہو گئے آپ پر وہی اعتراض نہیں آتا جو شیعوں کے عقیدہ سے رسول کریم میں سلیم پر آتا ہے۔عجیب بات ہے کہ عبدالحکیم مرتد نے جب یہ اعتراض کیا کہ مرزا صاحب کی جماعت کے اکثر لوگ گندے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی پر زور تردید فرمائی اور یہاں تک لکھا کہ میری جماعت میں سے اکثر صحابہ کا نمونہ ہیں۔مگر آج وہ لوگ جو آپ کو ماننے کے مدعی ہیں وہی کہہ رہے ہیں جو عبدالحلیم نے کہا تھا کیا اس کے صاف معنے یہ نہیں کہ ان کے نزدیک عبدالحکیم سچا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام جھوٹے۔بهر حال آج ہماری کثرت کا دشمن کو بھی اعتراف ہے پھر کیا ضرورت ہے کہ اقلیت کو تلاش کر کے اس کے پیچھے نماز پڑھیں۔پھر ان لوگوں کے پیچھے جن کا فتویٰ یہ ہے کہ مبالعین کے پیچھے نماز حرام ہے۔اس کے مقابل پر اگر ہم بھی ایسا ہی فتوی دے دیں تو فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعتدى عَلَيْكُمْ کے ماتحت ہم پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا لیکن میں نے ایسا فتویٰ کبھی نہیں دیا۔بغداد سے ایک غیر مبائع نے یہ فتوی دریافت کیا کہ یہاں مبائعین کی جماعت ہے اور میں اکیلا ہوں اور نماز با جماعت کی کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ یا ان لوگوں کے ساتھ پڑھی