خطبات محمود (جلد 13) — Page 8
- خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء بازار میں ہوں سب لے آؤ ۔ یا کبھی کسی نے نوکر کو گھر والوں سے یہ سوال کرتے دیکھا ہے کہ آپ گو بھی کیوں منگاتے ہیں مڑ کیوں نہیں منگاتے ۔ اگر وہ ایسا سوال کرے تو اسے زجر کی جائے گی اور گھر والی کے گی مجھے جو پسند تھا منگوالیا تم کو اس سے کیا غرض ہے۔ تو ثابت ہوا کہ دنیا میں انسان صرف یہ نہیں دیکھا کرتا کہ فلاں چیز مضر ہے یا نہیں یا میں اسے خرید سکتا ہوں یا نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ پسند ہے یا نہیں۔ قرآن کریم میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حلال طیب کھاتے ہیں۔ اب جو حلال ہے اسے کھانا جائز ہے۔ پھر طبیب سے کیا مراد ہوئی ۔ اگر اس سے بھی مراد حلال ہی ہوتی تو یہ لفظ زائد سمجھا جاتا۔ مگر خداتعالیٰ کا کلام زوائد سے پاک ہوتا ہے۔ طبیب سے مراد یہ ہے کہ جو طبیعت کے موافق اور پسندیدہ ہو ۔ ہو سکتا ہے ایک چیز حلال ہو مگر ایک طبیعت کے لئے اس کا کھانا مغیر ہو اس کے لئے وہ طیب نہ ہوگی۔ تو ہم صرف یہ نہیں دیکھتے کہ ایسا کر سکتے ہیں یا نہیں بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کرنا چاہئے یا نہیں۔ اور ہر کام کے وقت یہی سوال ہمارے دل میں پیدا نہیں ہوتا کہ یہ کرنا جائز ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کا کرنا مناسب بھی ہے یا نہیں۔ دنیا میں اربوں انسان خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں اور ان میں سے ہزاروں کے ناموں وغیرہ سے ہمیں واقفیت ہوتی ہے لیکن کیا جس کے نام سے واقفیت ہو اس سے ضرور دوستی پیدا کر لیتے ہیں۔ کیوں بعض کو ان میں سے دوستی کے لئے چنتے ہیں اس لئے کہ ان سے دوستی رکھنا ہمارے نزدیک مناسب ہوتا ہے حالانکہ جائز دوسروں سے بھی ہے مگر چونکہ ہمارے لئے انکی دوستی نامناسب ہوتی ہے اس لئے نہیں رکھتے۔ ایک غریب آدمی کے بچوں کو امیر کے بچوں کے ساتھ کھیلنا جائز ہے مگر ہو شیار اور عظمند غریب اپنے بچوں کو امیروں کے بچوں سے کھیلنے سے روکتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ امیر کے بچوں کے ساتھ کھیلنے پر وہ ضرور شام کو آکر کہیں گے کہ اس نے اس قسم کا گیند لیا ہے ہمیں بھی منگوا دو ۔ یا اس کے پاس فلاں کھلونے ہیں ہمیں بھی لے دو ۔ اب شریعت تو غرباء اور امراء کے بچوں کو باہم کھیلنے سے نہیں روکتی قانون بھی نہیں روکتا مگر غریب خود اپنی حیثیت کو دیکھتا ہے کہ اگر کھیلیں گے تو ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے جو میرے لئے مناسب نہیں اس لئے وہ روکتا ہے۔ اسی طرح ہر مسلمان کو لڑکی دینا جائز ہے مگر کیا کوئی ہر مسلمان کو لڑکی دینے پر رضامند ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی کسی لولے لنگڑے اندھے اور بہرے آدمی کو لڑکی دے دے تو کیا یہ منع ہے ؟ ہرگز نہیں لیکن کیا کوئی ایسا کرتا ہے محض اس خیال سے کہ یہ جائز ہے۔ پس وہ لوگ جو یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا غیر مبائعین کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے میں ان سے پوچھتا ہوں کیا انہوں