خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 7

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء تو وہ لوگ ہیں جو ان کے پیچھے نماز حرام سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کے پیچھے جو نبوت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے منکر ہیں نماز کیونکر جائز ہو سکتی ہے ان کے پیچھے نماز ایسی ہی ہے جیسے غیر احمدی کے پیچھے۔پھر آپ اس صریح مسئلہ میں کس طرح خلاف فیصلہ دے سکتے ہیں۔دوسرے وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک جائز ہے ان کا مقصد اس سوال سے یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو مان لیا اور ایمان لے آئے ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے کس طرح روکا جاسکتا ہے۔مجھے دونوں پر تعجب آتا ہے اور میں حیران ہو تا ہوں کہ انسان با وجود بار بار توجہ دلانے کے کیوں اسی جگہ کھڑا رہتا ہے جہاں وہ پہلے ہوتا ہے صاف رستہ نظر آنے کے بعد کیوں اس پر چل کر فائدہ نہیں اٹھاتا اور روشنی کے موجود ہوتے ہوئے کیوں آنکھیں نہیں کھولتا ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کتاب ملی ہے وہ نہایت وسیع مطالب اپنے اندر رکھتی ہے اور اس نے متواتر تدبر اور فکر کی طرف توجہ دلائی ہے۔خدا تعالیٰ نے جب ہمیں ماں کے پیٹ سے پیدا کیا تو ساتھ ہی دماغ دیکر بھیجا اور چونکہ یہ کل مخفی تھی اور پوشیدہ چیز بعض دفعہ پہچانی نہیں جا سکتی اس لئے اس نے اپنا کلام نازل کیا اور بتایا کہ یہ مشین تمہارے سر کے اندر موجود ہے اس سے کام لو۔چنانچہ متواتر قرآن کریم نے تدبر اور فکر کا لفظ استعمال کر کے بعینہ اسی طرح جس طرح کہ ایک ست بیل کو مار مار کر چلایا جاتا ہے انسان کو اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ سامان تمہارے اندر موجود ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔مگر پھر بھی بہت سے لوگ ہیں جو تدبر سے کام نہیں لیتے۔ایک کام جو ہم روزانہ کرتے ہیں جب اس کے متعلق کوئی شخص جواز کا فتویٰ پوچھے تو کیوں حیرت نہ ہو۔صبح سے لے کر شام تک ایک کام کیا جائے اور ختم کرنے کے بعد کسی سے پوچھا جائے کہ یہ کام اس طرح کرنا چاہئے یا کسی اور طرح۔حالانکہ اسی دن اسے کئی بار کر چکے ہوں تو کس قدر حیرانی کی بات ہو گی۔ہم جس شہر میں رہتے ہیں اس میں کئی اقسام کی سبزیاں پکتی ہیں۔آلو کچالو ٹماٹر مجدو گاجر ، شلجم ، مٹر، بھنڈی وغیرہ کوئی سبزی ایک موسم میں ہوتی ہے اور کوئی دوسرے میں لیکن ہر ایک موسم میں عام طور پر کئی قسم کی سبزی مل جاتی ہے مگر ہمارے گھروں میں ایک ہی دن سب نہیں پکتیں بلکہ حسب حیثیت ایک یاد ہو ہی پکتی ہیں۔کبھی کئی لوگ گوشت ہی پکا لیتے ہیں سبزی نہیں پکاتے۔پھر کئی دال ہی پکاتے ہیں یہ غریب آدمیوں کا طریق ہے لیکن اس غربت کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی دیکھنا چاہئے جو لوگ امیر ہوتے ہیں کیا وہ ساری سبزیاں ایک دن میں پکاتے ہیں۔بھی کسی کو دیکھا ہے کہ وہ نوکر کو سودا و غیرہ لانے کے لئے بازار بھیجے اور کہے جس قدر سبزیاں