خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 113

خطبات محمود ۱۱۳ سال ۱۹۳۱ء عیسائیت کی تبلیغ کریں گے تو میں انہیں ہندوستان سے نکل جانے پر مجبور کروں گا جس کے معنے سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتے کہ ہندوستانیوں کی اپنی حکومت کے زمانہ میں مذہبی تبلیغ بند ہو جائے گی کیونکہ اگر عیسائیت کی تبلیغ ممنوع ہوگی تو اسلام کی تبلیغ بھی یقینا جاری نہیں رہ سکے گی اور مسٹر گاندھی اور ان کے چیلوں سے امید بھی یہی ہے کہ وہ مذہبی تبلیغ کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ اس بیان کے شائع ہونے کے بعد درد صاحب جو ان دنوں دہلی میں تھے گاندھی جی سے ملے اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے سوراجیہ میں مذہبی تبلیغ کی بندش کا اعلان کیا ہے۔ گاندھی جی نے اس سے انکار کر دیا لیکن درد صاحب نے جب اخبار نکال کر سامنے رکھا تو کہنے لگے ہاں ایسی گفتگو ہوئی تو ضرور تھی مگر میرا مطلب یہ نہ تھا جو شائع ہوا ہے بلکہ میرا مطلب صرف یہ تھا کہ جاہل اور غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو تبلیغ کرنا مناسب نہیں ہاں میرے جیسے لوگوں کو تبلیغ کی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ عذر گناہ بد تر از گناہ کا مصداق ہے اور اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ تبلیغ بند کردی جائے گی۔ تعلیم یافتہ لوگوں تک تبلیغ کو محدود رکھنے کے یہ معنی ہیں کہ اعلان کر دیا جائے گا اس ملک میں صرف گاندھی جی ، مسٹر پٹیل ، پنڈت مالوی ، پنڈت جواہر لال نہرو اور مسٹر رنگا سوامی آئر و غیره چند ایک لوگوں کو ہی تبلیغ کی جاسکتی ہے باقی چونکہ سب جاہل ہیں اس لئے انہیں کسی قسم کی تبلیغ نہیں کی جاسکتی اور اس وقت تمام مبلغوں کو سوائے اس کے چارہ نہ ہو گا کہ ان لوگوں کے دروازوں پر جا کر بیٹھے رہیں۔ اس پابندی کو مد نظر رکھتے ہوئے کون عظمند یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تبلیغ کی اجازت ہوگی۔ یہ تو تبلیغ کی بندش کا ایک نہایت نا معقول بہانہ ہے۔ پھر ایک اور غور طلب امر یہ ہے کہ گاندھی جی نے ان پڑھوں اور جاہلوں کے اوپر اپنے آپ کو ہی رکھا ہے۔ گویا اان - یا ان کے سوایا ان جیسی شخصیت رکھنے والے چند ایک لوگوں کے سوا باقی تمام اہل ملک جاہل ہیں۔ لیکن اگر یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ جاہل سے ان کی مراد اونی اقوام ہیں تو بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان بیچاروں کو ہمیشہ کے لئے ہی اس حالت میں رکھا جائے گا اور کبھی بھی چوہڑوں، چماروں، سانسیوں اور گونڈ بھیل وغیرہ اقوام کو علم و تہذیب نہ سکھائی جائے گی کیونکہ اگر کوئی سکھائے گا تو پھر یہی سوال پیدا ہو گا کہ کیوں سکھاتا ہے۔ کچھ سکھانا اگر امریکن مشنریوں کے لئے جرم ہو گا تو مسلمان مبلغین کے لئے بھی جائزہ نہیں ہو سکتا کیونکہ جو بات قانوناً جرم ہو وہ سب کے لئے ہی جُرم ہو گی۔ یا پھر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ہندوؤں کو ہندو ہی سکھا سکیں گے اور یہ بھی تبلیغ کی بندش کے ہی مترادف ہے۔