خطبات محمود (جلد 13) — Page 98
خطبات محمود ۹۸ سال ۱۹۳۱ء ہم نے کوئی زیادہ کوشش نہیں کی۔سرکاری رپورٹ یہ ہے کہ پنجاب میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ قوم سکھ ہے یعنی گیارہ فیصدی ہندو سات فیصدی اور مسلمان چار فیصدی ہیں۔مگر ہمارے اپنے اندازہ کے لحاظ سے احمدی خدا کے فضل سے اٹھارہ انیس فی صدی تعلیم یافتہ ہیں۔گویا سب قوموں سے زیادہ تعلیم یافتہ احمدی ہیں۔حالانکہ ابھی اس کے متعلق ہم نے پورا زور نہیں لگایا اور میں چاہتا ہوں قادیان اور اس کے ارد گرد کا ہر احمدی خواہ وہ بوڑھا ہی ہو اور اس کی عمر ستر سال ہی کیوں نہ ہو مرنے سے پیشتر لکھنا پڑھنا ضرور سیکھ لے۔اور یہ صورت بھی اسی قسم کی جبری بھرتی سے پیدا ہو سکتی ہے۔یعنی ہر پڑھا لکھا احمدی وقت دے اور ہر گاؤں میں جاکر ان پڑھوں کو تعلیم دے۔ایسے قواعد ہیں کہ جن پر عمل کرنے سے تھوڑے دنوں میں ہی دستخط کرنا اور معمولی کتاب وغیرہ پڑھنا سکھایا جا سکتا ہے۔اور جب اس قدر لکھنا پڑھنا آجائے تو پھر آگے خود بخود ترقی کی جاسکتی ہے۔میں نے دیکھا ہے یہاں ایک میاں شادی خان صاحب سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔پہلے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دروازہ پر بیٹھے رہتے تھے۔بعد میں سیکرٹری کے دفتر میں کلرک ہو گئے تھے اور حافظ روشن علی صاحب کے خسر تھے۔جب وہ یہاں آئے اور کوئی کام نہ ملا تو انہوں نے کہا چلو ثواب ہی حاصل کریں۔اور وہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ و السلام کی ڈیوڑھی پر بیٹھ گئے۔کوئی باہر سے رقعہ وغیرہ لا تاتو اندر پہنچا دیتے یا اندر سے کوئی پیغام آتا تو باہر پہنچا دیتے۔ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ انگریزی کی ابتدائی ریڈر (READER) لئے پڑھ رہے ہیں۔میں ان دنوں ابھی بچہ ہی تھا۔میں نے پوچھا آپ کیا پڑھتے ہیں کہنے لگے خالی بیٹھا رہتا ہوں خیال آیا کہ کچھ پڑھ ہی لوں۔جو کوئی انگریزی دان وہاں آتا اس سے کچھ نہ کچھ پوچھ لیتے اور اسی طرح تھوڑے ہی دنوں میں وہ آٹھویں نویں جماعت تک کی انگریزی پڑھ گئے۔پس اگر کوشش کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ بڑی عمر کے آدمی بھی پڑھنا لکھنا نہ سیکھ سکیں۔زمینداروں کو اُن پڑھ ہونے کی وجہ سے ہی کئی لوگ دھوکا دے جاتے ہیں۔جو جی چاہے لکھ کر اس پر ان کا انگوٹھا لگوا لیتے ہیں۔حالانکہ انہیں کچھ پتہ نہیں ہو تاکہ کیا لکھا ہے۔پس ہر ایک احمدی زمیندار کو اتنا ضرور سیکھ لینا چاہئے کہ کوئی جھوٹے دستخط اس سے نہ کرا سکے۔اور میرا خیال ہے قادیان کے رہنے والوں کے متعلق کوشش کی جائے کہ یہاں کے رہنے والے ہر ایک احمدی کو کچھ نہ کچھ عربی ضرور آجائے اس کے لئے خواہ ہفتہ میں ایک دن اسے پڑھایا جائے۔مگر اتنا ضرور ہو کہ جب کبھی وہ باہر تبلیغ کے لئے جائے تو کوئی ملا اپنی عربی دانی سے