خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 589

خطبات محمود ۵۸۹ سال ۱۹۳۲ء کے بعد حاصل ہونے والی چیز سمجھ کر مرنے کے بعد اسے تلاش کر لینے کی امید رکھتے ہیں ، اس وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہے جو سمندر میں ڈوب رہا ہو۔اس کے بالکل پاس ہی ایسی رہتی ہو جسے پکڑ کر وہ بیچ سکتا ہے لیکن وہ اس پاس کی رسی کو تو نہ دیکھے اور دس پندرہ گز کے فاصلہ پر پہنچ کر رتی کی تلاش کرنا چاہے۔ایسا شخص یقینا بچ نہیں سکے گا اور انجام کار ڈوب جائے گا مگر اس کا ڈوبنا اس وجہ سے نہیں ہو گا کہ نجات کا سامان اور ذریعہ اس کے پاس نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ باوجود سامان ہونے کے اس نے اس کو اس کی اصل اور حقیقی جگہ میں تلاش نہ کیا۔بالکل اسی طرح اس شخص کی حالت ہوتی ہے کہ جنت تو بالکل اس کے قریب ہوتی ہے لیکن وہ اسے دور سمجھ کر وہاں تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس طرح بسا اوقات اس سے محروم رہ جاتا ہے۔جنت کے باوجود قریب ہونے کے اسے دور سمجھ لینے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگ اعمال حسنہ کو اور چیز سمجھتے ہیں اور ان کے بدلہ کو دوسری چیز۔لیکن قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے کہ اعمال اور ان کی جزاء ایک ہی چیز ہے۔اگر یہ دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہوں تو بالکل ممکن ہے کہ بعض اوقات اعمال تو ہوں لیکن جزاء نہ ملے۔یا جزاء تو مل جائے اور اعمال موجود نہ ہوں۔لیکن اگر اعمال اور ان کی جزاء ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ ایک کی موجودگی ضرور دوسرے کے وجود کا باعث ہوتی ہے اور دوسرا اپنے وجود کے لئے ضرور پہلے کی موجودگی چاہتا ہے۔پس ہمیشہ اس بات کو مد نظر رکھو کہ انسان کے قلب کی نیکی ہی اس کی جنت ہے اور انسان کے قلب کی بدی ہی اس کے لئے دو زخ۔اور اگلے جہان میں یہی قلبی کیفیتیں متمثل ہو جائیں گی۔جوں جوں انسان اپنے قلب کو لڑائیوں جھگڑوں بدیوں اور خرابیوں سے پاک کرتا چلا جاتا ہے، اس کی جنت اس کے قریب آتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔اور جتنا جتنا اس کا دل نیکیوں خوبیوں بھلائیوں اور اخلاق فاضلہ سے دور ہوتا جاتا ہے، دوزخ کو اپنے قریب لاتا جاتا ہے حتی کہ خود دوزخ میں گر جاتا ہے۔دور جانے کی ضرورت نہیں ایک گاؤں کو ہی لے لو جس میں دس میں گھر ہوں۔یا چار پانچ ہی ہوں بلکہ میں تو کہتا ہوں دو تین گھروں کا گاؤں ہو۔میدانی علاقہ میں تو کوئی ایسا گاؤں ہوتا نہیں شاید پہاڑوں میں مل جائے۔اس میں رہنے والے کوئی سے دو آدمی لے لو جو ایک جیسے گھر، ایک جیسی آب و ہوا، ایک ہی ماحول ایک ہی قسم کی خوراک ایک ہی طرح کے لباس میں زندگی بسر کرنے والے ہوں۔ان سے پوچھو تمہاری کیا