خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 581

خطبات محمود ۵۸۱ سال ۱۹۳۲ء مطابق لیتا ہے اس لئے بڑے آدمی پر بڑے تاثرات ہوتے ہیں۔اور معمولی حیثیت والے پر معمولی۔اس وجہ سے ان کی رپورٹوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔یوں بھی شہروں کی آواز مجموعی حیثیت سے بلند ہوتی ہے۔اور دیہات میں انفرادی طور پر اسے اٹھایا جاتا ہے۔ان وجوہات کی پیش نظر شہروں کی آواز ا ا اپنے اثر کے لحاظ سے بہت اہم ہوتی ہے۔لیکن کوئی شہری اپنے آپ کو آزاد نہیں کر سکتا۔اس کے کام ایسے ہوتے ہیں کہ وہ جلدی تھک جاتا ہے۔لیکن گاؤں والا چونکہ مشقت کی زندگی گزارنے کا عادی ہوتا ہے اس لئے وہ قربانیاں بھی زیادہ کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے ہنگامی کاموں کے وقت مصیبت کی گھڑیوں میں گاؤں کے لوگ ہی کام آتے ہیں۔میری ان باتوں کا یہ مطلب نہیں کہ ملازمین کا طبقہ بالکل ہی بے کار ہے ، نہیں بلکہ ملازمین میں بھی ایک عصر بہت مفید ہے اور بعض اوقات جو کچھ وہ فائدہ پہنچا سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں پہنچا سکتا۔لیکن اس سلسلہ میں بھی ہماری جماعت کمزو رہی ہے۔تمام بڑے بڑے زمیندار آزاد پیشہ ور کارخانہ دار حکومت کے ملازم ہماری تبلیغ سے محروم ہیں۔اور دیدہ دانستہ جان بوجھ کر ایسے لوگوں کو تبلیغ نہیں کی گئی۔ہاں اتفاقی یا ضمنی طور پر اگر ایسے لوگوں کو احمدیت کی تعلیم پہنچ گئی ہو تو وہ اور بات ہے۔ورنہ قصداً اور اراد تا ایسے لوگوں کو تبلیغ نہیں کی گئی۔حج ای۔اے۔سہی ، پولیس کے عہدیدار فوج کے بڑے بڑے افسر یہ وہ لوگ ہیں جن تک ہماری آواز نہیں پہنچی۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جماعت اس دائرہ میں ترقی نہیں کر رہی اور یہ دائرہ بند ہے۔حالانکہ جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ تبلیغ ہر طبقہ میں ہو۔اسی طرح ایک علمی طبقہ ہے۔کالج کے پروفیسروں کا جو اپنی تعلیم تو بے شک کالج کی چار دیواری میں ہی دیتے ہیں لیکن فی الحقیقت وہ ایک عالمگیر اثر رکھتی ہے کیونکہ اس تعلیم کو اخذ کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے آئندہ قوم بنتی ہے۔اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ بننے والی قوم کے خیالات انہیں پروفیسروں کے خیالات اور رحجانات کا چربہ یا عکس ہوتے ہیں۔اور ان کی ذہنیت کو جس سانچے میں چاہیں ڈھال سکتے ہیں۔لیکن چونکہ اکثر ان میں سے روحانیت سے دور اور اسلامی تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں اس لئے لڑکوں کو اپنے من گھڑت خیالات ہی بتلاتے رہتے ہیں اور زہریلے مادے طالب علموں کے قلوب میں ڈالتے رہتے ہیں۔استاد کی بتلائی ہوئی بات کا شاگر د پر گہرا اور دیر پا اثر ہوتا ہے اس لئے نوجوان وہی روش اختیار کر لیتا ہے جو اس کے استاد کی ہوتی ہے۔اور جوش رکھنے والا طالب علم خود بھی وہی خیالات اپنی طرف سے پھیلانے شروع کر دیتا ہے اور اس سے جو سنتا ہے وہ اپنے