خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 513

خطبات محمود ۵۱۳ 59 سال ۱۹۳۲ء نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کریں (فرموده ۸ - جولائی ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے متواتر جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ سلسلوں کی ترقی آئندہ نسلوں کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔اگر ہماری آئندہ نسلیں اس معیار کو قائم نہ رکھیں جس کا قائم رکھنا ہماری ترقی کے لئے ضروری اور لازمی ہے تو یقینا یہ امر ہماری ترقی کے رستہ میں اہم اور بہت بڑی روک ثابت ہو گا۔کئی دفعہ میں نے بتایا ہے کہ اولاد کی محبت اس بات میں مرکوز نہیں ہے کہ ماں باپ ان کی تمام خواہشات کو پورا کریں بلکہ اس میں اچھے اخلاق قربانی و ایثار کی روح پیدا کرنا سچی محبت ہے۔اس کے بغیر عارضی خوشیاں دراصل ان کے لئے ماتم کا سامان ہوتی ہیں اور ان پر خوش ہونے والے والدین در اصل ان کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہوتے ہیں۔میں یہ بات سمجھتا ہوں اور سمجھ سکتا ہوں کہ باوجود پوری خواہش اور ممکن تدابیر اختیار کرنے کے بھی ہو سکتا ہے کہ اولاد والدین کی مرضی کے مطابق نہ چلے اور ان کے احکام کی خلاف ورزی کرے۔لیکن اس کا سبب یا تو یہ ہو گا کہ اولاد کے دماغ میں کوئی نقص ہوگا یا پھر یہ کہ ماں باپ کے اثر سے زیادہ مضبوط اثر اس پر پڑ رہا ہو گا اور یہ اثر اگر لڑکا شادی شدہ ہو گا تو بیوی کا ہو گا یا دوستوں اور استادوں کا ہو گا اور اگر وہ شادی شدہ نہ ہو گا تو دوستوں اور استادوں کا۔پس میں تسلیم کرتا ہوں کہ بالکل ممکن ہے بعض ماں باپ پورا زور لگا ئیں اور پھر بھی تمام اولاد یا ان میں سے بعض پر برا اثر ہو۔اور وہ اسے روک نہ سکیں لیکن اس صورت میں وہ بری الذمہ ہوں گے۔ان کی ذمہ داری کوشش اور سعی تک تھی اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے وہ تمام تدابیر جو اصلاح اولاد کے لئے کرنی چاہئیں ، اختیار کیں مگر پھر بھی اچھا نتیجہ نہیں نکلا اور وہ کامیاب نہیں ہو سکے تو اس صورت میں وہ خدا تعالٰی کے مواخذہ کے نیچے نہیں ہوں گے۔اگر نصیحت تنبیہ زجر و توبیخ سے تعلق رکھنے والی تمام تدابیر انہوں نے اختیار کیں اور پیار سے تعلق رکھنے والے